Pakistan Freelance Journalists Association - PFJA

Digital Archive

پریس کونسل کا مسودہ تیار ہے، صرف نفاذ باقی ہے: سیکرٹری اطلاعات اقبال یوسفی نے سیکرٹری اطلاعات سے ملاقات کی

پریس کونسل کا مسودہ تیار ہے، صرف نفاذ باقی ہے: سیکرٹری اطلاعات

اقبال یوسفی نے سیکرٹری اطلاعات سے ملاقات کی

لاہور (سٹی رپورٹر): آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی نے وفاقی سیکرٹری اطلاعات و چیئرمین  پی ٹی وی سید انور محمود سے ملاقات کی اور ان سے پریس کونسل ڈیکلریشن جاری کرنے کی پالیسی کے علاوہ ٹی وی سے دکھائے جانیوالے منفی پروگراموں کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی۔ سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ ”پریس کونسل“ کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جن میں فریقین کی رضا مندی حاصل کر لی گئی ہے۔ صرف اس کا نفاذ باقی رہ گیا ہے۔ اس موقع پر پی ایف جے اے کے صدر نے سیکرٹری اطلاعات کی توجہ ”ڈیکلریشن کی فری پالیسی“ سے پیدا ہونیوالی خرابیوں اور اس کے نتائج پر دلائی۔ اس سلسلے میں ایک تحریری درخواست بھی ان کے حوالے کی۔ جس پر سیکرٹری اطلاعات نے موجودہ ڈیکلریشن پالیسی پر نظرثانی کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

1999ء صحافیوں اور صحافتی اداروں کیلئے کڑے امتحان کا سال تھا: پی ایف جے اے سالانہ رپورٹ

1999ء صحافیوں اور صحافتی اداروں کیلئے کڑے امتحان کا سال تھا

پاکستان میں صحافیوں اور اخبارات کو مسلسل دباؤ اور تشدد کا سامنا رہا، اقبال یوسفی

سی آر شمسی، پرویز شوکت، فوزیہ شاہد اور دیگر کو دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا

لاہور (پ ر): بیسویں صدی کا آخری سال 1999ء پاکستان میں شعبہ صحافت کیلئے انتہائی سخت اور کڑے امتحان کا سال تھا۔ آزاد صحافیوں کی تنظیم فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی نے ایک بیان میں یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن کو مختلف عالمی اداروں، اقوام متحدہ اور حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں کی جانب سے جو اعداد و شمار اور حقائق موصول ہوئے ہیں ان کے مطابق پاکستان میں صحافیوں اور اخبارات کو سرکاری ایجنسیوں کی طرف سے مسلسل دباؤ اور تشدد کا سامنا رہا۔ تشدد کے ان واقعات کے دوران ٹھٹھہ کے ایک صحافی کی موت بھی واقع ہوئی جس پر مبینہ طور پر پولیس نے تشدد کیا اس کے علاوہ درجنوں صحافیوں کو گرفتار کیا گیا، بعض کو سنگین حالات کی دھمکیاں ملیں اور بعض کو مارا پیٹا گیا۔

فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی نے مختلف عالمی اداروں اور حقوق انسانی کی تنظیموں کی جانب سے موصول ہونے والی رپورٹیں جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 1999ء کے دسمبر کا دوسرا حصہ سال کا بدترین وقت تھا، 3 بڑے اخبارات پر مقدمے بنائے گئے، ایک ترک نیوز ایجنسی کے دفتر پر حملہ کیا گیا، 2 صحافیوں کو ابتدائی طور پر اغوا کیا گیا اور بعد میں چھوڑ دیا گیا، حکومت کیخلاف احتجاج کرنے والے صحافیوں پر تشدد کیا گیا اور فوٹو گرافروں کے کیمرے توڑ دیئے گئے۔ نواز حکومت نے صحافیوں کیخلاف انتقامی کارروائیوں کے دوران جن سینئر صحافیوں کو گرفتار کیا ان میں فرنٹیر پوسٹ کے چیف ایڈیٹر رحمت شاہ آفریدی، صحافی ندیم ملک، اسلام آباد میں ڈان کے بیورو چیف ایم ضیاء الدین اور امریکہ میں پاکستان کی موجودہ سفیر ملیحہ لودھی شامل ہیں۔ ان تمام صحافیوں کا قصور صرف سچ بولنا اور سچ کی حمایت کرنا تھا۔ لاہور کے ایک صحافی محمود احمد خان جنہوں نے نواز فیملی پر کرپشن کے سلسلے میں بی بی سی کیلئے فلم بنائی تھی کو سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے اغوا کرایا گیا۔ فرائیڈے ٹائمز کے ایڈیٹر نجم سیٹھی کو بغیر عدالتی وارنٹ کے ایک وفاقی ایجنسی نے گھر سے اٹھا لیا اور ان پر بھارت میں پاکستان کیخلاف تقریر کرنے کا الزام لگایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایک کالم نگار اور سیاستدان کو بھی ایجنسیوں نے اغوا کیا، کیونکہ انہوں نے بی بی سی کی فلم میں شریف فیملی کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا تھا۔ سینئر صحافیوں زاہد ملک، ملیحہ لودھی اور غازی صلاح الدین کو بھی نئی دہلی میں نجم سیٹھی کے ساتھ ایک سیمینار میں شرکت کی بنا پر گرفتار کیا گیا۔

آر آئی یو جے نے صحافیوں پر تشدد کے ان واقعات کیخلاف بھرپور احتجاج کیا، انہوں نے راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ آر آئی یو جے کے سرکردہ رہنمائوں سی آر شمسی، پرویز شوکت، فوزیہ شاہد اور دیگر کو ان حالات میں شدید مشکلات اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے تمام ایسے پولیس افسران جنہوں نے صحافیوں کیخلاف غیر قانونی کارروائیوں میں حصہ لیا سے استعفے لینے کا مطالبہ کیا۔ نیویارک میں بین الاقوامی شہرت یافتہ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے اپنی ایک رپورٹ میں نواز حکومت کی طرف سے پاکستان میں شعبہ صحافت کیخلاف ناروا سلوک کا ذکر کیا ہے۔ اس رپورٹ میں نیوز لائن, ہیرالڈ، ڈان، مشرق اور بی بی سی کے رپورٹر اور لیس ٹھیار پر حملے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 3 صحافیوں دی نیشن کے غلام فاروق، "آج" کے سلیم خان اور "شمال" کے غفور خان عادل کو سوات پولیس کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے ان صحافیوں کے مقامی دفاتر کو بند کر دیا اور دیگر صحافیوں کو گرفتار کرنے کیلئے چھاپے مارے جس میں مشرق اور ڈان کے علی حضرت باچہ، جمعہ رحمن افغان ایڈ ایڈیٹر (شمال) اور ڈلی جہاد کے حضرت بلال شامل ہیں۔ اوصاف اسلام آباد کے ایڈیٹر حامد میر پر بھی مقدمہ بنایا گیا، ان سب صحافیوں کا قصور صرف اور صرف پولیس اور انتظامیہ کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنا تھا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پولیس نے لاہور پریس کلب پر بھی حملہ کیا اور اس کے سیکرٹری اور دیگر صحافیوں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1999ء کے دوران حالت جنگ میں رہنے والے ممالک میں فرائض انجام دینے والے 91 صحافی اور میڈیا ورکرز ہلاک ہوئے۔ بلغراد میں واقع میڈیا بلڈنگ پر نیٹو کے جنگی طیاروں کی بمباری سے 41 میڈیا ورکرز ہلاک ہوئے۔ سیرا لیون میں تاریخ کی سب سے بڑی خانہ جنگی کے دوران 11 مقامی صحافی ہلاک ہوئے، انڈونیشیا میں مشرقی تیمور میں 3 صحافی ہلاک کئے گئے، کولمبیا میں خانہ جنگی کے دوران 8 صحافی ہلاک ہوئے، جبکہ الجزائر میں منتخب حکومت کی جگہ دوسری حکومت مسلط کرنے کی کوشش کے دوران خانہ جنگی میں 150 صحافی ہلاک کئے گئے اور بقیہ صحافیوں کی جان بچانے کیلئے انہیں عالمی اداروں کی مدد سے بیلجئم میں پناہ دلوائی گئی۔

فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کا ہارون سعد کی وفات پر اظہارِ تعزیت


 

فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کا ہارون سعد کی وفات پر اظہارِ تعزیت

لاہور (پ ر): آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے ایک تعزیتی اجلاس میں روزنامہ امروز کے سابق چیف ایڈیٹر و چیف ایگزیکٹو محمد ہارون سعد کے انتقال پر گہرے غم، دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ تعزیتی اجلاس میں مرحوم کی صحافت کے لیے 40 سالہ خدمات پر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

مقررین میں فضل الرحمن نعیم، اقبال یوسفی، ظفر علی راجہ، شکیل صدیقی، شوکت اللہ اور اختر حیات شامل تھے۔ تعزیتی اجلاس میں نعیم قریشی، ابراہیم طاہر، لیق عسکری، آفاق علی خان، امتیاز رشید قریشی، نوید بخاری، ادریس عثمانی، خالد پرویز ملک، عبدالحمید، رانا اقبال چودھری، تنویر زبیری، مظہر علی ادیب، احسان کریم، کمال رضوی اور خالد لطیف نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہارون سعد کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔


ہارون سعد بلند پایہ صحافی اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھے فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے تعزیتی اجلاس میں مقررین کا مرحوم کو خراجِ عقیدت

 


ہارون سعد بلند پایہ صحافی اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھے

فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے تعزیتی اجلاس میں مقررین کا مرحوم کو خراجِ عقیدت

لاہور (پ ر): آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے ایک تعزیتی اجلاس میں روزنامہ امروز کے سابق چیف ایگزیکٹو محمد ہارون سعد کے انتقال پر گہرے غم، دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ تعزیتی اجلاس میں مرحوم کی صحافت کے لیے چالیس سالہ خدمات پر انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

مقررین میں فضل الرحمن نعیم، اقبال یوسفی، ظفر علی راجہ، شکیل صدیقی، شوکت اللہ اور اختر حیات شامل تھے انہوں نے کہا کہ ہارون سعد نہ صرف ایک کامیاب صحافی تھے بلکہ انہوں نے انتظامی امور میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

ہارون سعد مرحوم بلند پایہ صحافی اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھے فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے تعزیتی اجلاس میں مرحوم کی خدمات پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا

 

ہارون سعد مرحوم بلند پایہ صحافی اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھے فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے تعزیتی اجلاس میں مرحوم کی خدمات پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا

ہارون سعد مرحوم بلند پایہ صحافی اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھے

فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے تعزیتی اجلاس میں مرحوم کی خدمات پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا

لاہور (پ): آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے ایک تعزیتی اجلاس میں روزنامہ امروز کے سابق چیف ایڈیٹر و چیف ایگزیکٹو محمد ہارون سعد کے انتقال پر گہرے غم و افسوس کا اظہار کیا گیا۔ تعزیتی اجلاس میں مرحوم کی صحافت کے لیے 40 سالہ خدمات پر انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

مقررین میں فضل الرحمن نعیم، اقبال یوسفی، ظفر علی راجہ، شکیل صدیقی، شوکت اللہ اور اختر حیات شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہارون سعد نہ صرف ایک کامیاب صحافی تھے بلکہ انہوں نے انتظامی امور میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ مقررین نے کہا کہ مرحوم کے دورِ ادارت میں امروز لاہور اور ملتان ہر اعتبار سے معیاری اخبار رہا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کو اخبار کی بندش اور ملازمین کی بیروزگاری کا بے حد صدمہ تھا جس کی وجہ سے وہ گوشہ تنہائی میں چلے گئے تھے۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی نے کہا کہ مرحوم ایک بلند پایہ صحافی اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ انہوں نے ہمیشہ دوست نوازی کی پالیسی اپنائی لیکن مکر نے ان سے بے وفائی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہارون سعد کے انتقال سے پاکستانی صحافت ایک مخلص اور محبِ وطن صحافی سے محروم ہو گئی ہے۔

تعزیتی اجلاس میں نعیم قریشی، ابراہیم طاہر، لیق عسکری، آفاق علی خان، امتیاز رشید قریشی، نوید بخاری، ادریس عثمانی، خالد پرویز ملک، عبدالحمید، رانا اقبال چودھری، تنویر زبیری، مظہر علی ادیب، احسان کریم، کمال رضوی اور خالد لطیف نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہارون سعد مرحوم کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور مغفرت کی دعا کی گئی۔

ہارون سعد نے امروز کی بندش کے باعث گوشہ تنہائی اختیار کیا ان کی وفات سے صحافت مدبر محبِ وطن سے محروم ہو گئی، تعزیتی اجلاس سے مختلف صحافیوں کا خطاب

ہارون سعد نے امروز کی بندش کے باعث گوشہ تنہائی اختیار کیا ان کی وفات سے صحافت مدبر محبِ وطن سے محروم ہو گئی، تعزیتی اجلاس سے مختلف صحافیوں کا خطاب

 

ہارون سعد نے امروز کی بندش کے باعث گوشہ تنہائی اختیار کیا

ان کی وفات سے صحافت مدبر محبِ وطن سے محروم ہو گئی، تعزیتی اجلاس سے مختلف صحافیوں کا خطاب

لاہور (پ ر): آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے ایک تعزیتی اجلاس میں روزنامہ امروز کے سابق چیف ایڈیٹر و چیف ایگزیکٹو محمد ہارون سعد کے انتقال پر گہرے غم، دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ تعزیتی اجلاس میں مرحوم کی صحافت کے لیے 40 سالہ خدمات پر انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

مقررین میں فضل الرحمن نعیم، اقبال یوسفی، ظفر علی راجہ، شکیل صدیقی، شوکت اللہ اور اختر حیات شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہارون سعد نہ صرف ایک کامیاب صحافی تھے بلکہ انہوں نے انتظامی امور میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ مقررین نے کہا کہ مرحوم کے دورِ ادارت میں امروز لاہور اور ملتان ہر اعتبار سے معیاری اخبار رہا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کو اخبار کی بندش اور ملازمین کی بیروزگاری کا بے حد صدمہ تھا جس کی وجہ سے وہ گوشہ تنہائی میں چلے گئے تھے اور آخر کار یہ صدمہ جان لیوا ثابت ہوا۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی نے کہا کہ مرحوم ایک بلند پایہ صحافی اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ انہوں نے ہمیشہ دوست نوازی کی پالیسی اپنائی لیکن مکر نے ان سے بے وفائی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہارون سعد کے انتقال سے پاکستانی صحافت ایک مخلص اور محبِ وطن صحافی سے محروم ہو گئی ہے۔

تعزیتی اجلاس میں نعیم قریشی، ابراہیم طاہر، لیق عسکری، آفاق علی خان، امتیاز رشید قریشی، نوید بخاری، ادریس عثمانی، خالد پرویز ملک، عبدالحمید، رانا اقبال چودھری، تنویر زبیری، مظہر علی ادیب، احسان کریم، کمال رضوی اور خالد لطیف نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہارون سعد مرحوم کے لیے فاتحہ خوانی اور مغفرت کی دعا کی گئی۔

محمد ہارون سعد بلند پایہ صحافی اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھے فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے تعزیتی اجلاس میں مرحوم کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا


محمد ہارون سعد بلند پایہ صحافی اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھے

فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے تعزیتی اجلاس میں مرحوم کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا

لاہور (پ ر) آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے ایک تعزیتی اجلاس میں روزنامہ امروز کے سابق چیف ایڈیٹر و چیف ایگزیکٹو محمد ہارون سعد کے انتقال پر گہرے افسوس کا اظہار کیا گیا۔ تعزیتی اجلاس میں مرحوم کی صحافت کے لیے 40 سالہ خدمات پر انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

مقررین میں فضل الرحمن نعیم، اقبال یوسفی، ظفر علی راجہ، شکیل صدیقی، شوکت اللہ اور اختر حیات شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہارون سعد نہ صرف ایک کامیاب صحافی تھے بلکہ انہوں نے انتظامی امور میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ مقررین نے کہا کہ مرحوم کے دورِ ادارت میں امروز لاہور اور ملتان ہر اعتبار سے معیاری اخبار رہا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کو اخبار کی بندش اور ملازمین کی بیروزگاری کا بے حد صدمہ تھا جس کی وجہ سے وہ گوشہ تنہائی میں چلے گئے تھے۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی نے کہا کہ مرحوم ایک بلند پایہ صحافی اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ تعزیتی اجلاس میں نعیم قریشی، ابراہیم طاہر، لیق عسکری، آفاق علی خان، امتیاز رشید قریشی، نوید بخاری، ادریس عثمانی، خالد پرویز ملک، عبدالحمید، رانا اقبال چودھری، بشیر احمد، مظہر علی ادیب، احسان کریم، کمال رضوی اور خالد لطیف نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہارون سعد مرحوم کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور مغفرت کی دعا کی گئی۔

۔فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے جشن آزادی کا آغاز بزرگ صحافی اسماعیل ذبیح کو بیج لگا کر کیا۔


فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے ارکان ایسوسی ایشن کے صدر اقبال احمد یوسفی کی قیادت میں بزرگ صحافی مولانا محمد اسماعیل ذبیح کو بیچ لگا کر یوم آزادی کا اغاز کر رہے ہیں۔

 فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے جشن آزادی کا آغاز بزرگ صحافی اسماعیل ذبیح کو بیج لگا کر کیا۔

لاہور (پ ر)  یوم آزادی کے موقع پر آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے ارکان نے جشن آزادی کا آغاز ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی کی قیادت میں تحریک پاکستان کے کارکن اور بزرگ صحافی مولانا محمد اسماعیل ذبیح کو قائدا اعظم محمد علی جناح کے قول پر مشتمل ایک بیج لگا کر کیا۔ اس موقع پر جناب اسماعیل ذبیح نے ایسوسی ایشن کے وفد سے بانی پاکستان کی قیادت و رفاقت کی اپنی تحریر کردہ کتابوں ادبی صحافتی سرگرمیوں کے بارے میں مختصراً گفتگو کی۔