Pakistan Freelance Journalists Association - PFJA

Digital Archive

Mumtaz Khan's services praised

 

Mumtaz Khan's services praised

  THE Pakistan Freelance Journalists Association has condoled the death of a senior journalist and Tehrik-i-Pakistan worker Mumtaz Ahmed Khan. Iqbal Yousufi, while presiding over a meeting of the association, paid rich tributes to the deceased for services he rendered for Pakistan and the profession of journalism. He said Mumtaz Ahmed was a life member of the association and had the honour of reporting the public addresses of Quaid-i-Azam Muhammad Ali Jinnah during his visits to Punjab. Mumtaz Ahmed had got Quaid-i-Azam badge as well, he added. —PR

 

ممتاز احمد خان کی یاد میں فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کا تعزیتی اجلاس
لاہور (پ ر) آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے اقبال یوسفی کی زیرِ صدارت تعزیتی اجلاس میں سینئر صحافی، تحریکِ پاکستان کے کارکن اور ایسوسی ایشن کے تاحیات رکن ممتاز احمد خان کے انتقال پر گہرے رنج و دکھ کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں سید انور ظہور، پروفیسر ملک ندیم، شمیم قریشی، خالد اسدی، ابراہیم طاہر، انعام الٰہی، محمد حسنین، چودھری تنویر زبیری اور دوسرے فری لانس صحافیوں نے مرحوم کی پاکستان اور صحافت کے لئے خدمات پر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے اجلاس میں ممتاز احمد خاں کی وفات پر اظہار تعزیت
لاہور (پ ر) آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے ایک تعزیتی اجلاس میں سینئر صحافی اور ایسوسی ایشن کے تاحیات رکن ممتاز احمد خان کے انتقال پر گہرے رنج و دکھ کا اظہار کیا گیا۔ تعزیتی اجلاس کی صدارت اقبال یوسفی نے کی۔ سید انور ظہور، پروفیسر ملک ندیم، شمیم قریشی، خالد اسدی، پروفیسر ندیم، طاہر، انعام الٰہی، محمد حسنین، چودھری تنویر زبیری اور دوسرے فری لانس صحافی شریک ہوئے۔


ممتاز احمد خان کے انتقال پر تعزیتی اجلاس
لاہور (پ ر) پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے تعزیتی اجلاس میں تحریکِ پاکستان کے کارکن، سینئر صحافی اور ایسوسی ایشن کے تاحیات رکن ممتاز احمد خان کے انتقال پر گہرے رنج و دکھ کا اظہار کیا گیا۔ تعزیتی اجلاس کی صدارت اقبال یوسفی نے کی۔ اجلاس میں سید انور ظہور، پروفیسر ملک ندیم، شمیم قریشی، خالد اسدی، ابراہیم طاہر، انعام الٰہی، محمد حسنین، چودھری تنویر زبیری نے مرحوم کی پاکستان اور صحافت کے لئے خدمات پر شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ 

مولانا اسماعیل ذبیح – عالمِ دین، صحافی، مورخ اور تحریکِ پاکستان کے معمار


مولانا اسماعیل ذبیح – عالمِ دین، صحافی، مورخ اور تحریکِ پاکستان کے معمار

مولانا اسماعیل ذبیح ایک ایسے علمی گھرانے میں پیدا ہوئے جہاں علم، دینی حکمت اور فکری وقار نسلوں تک منتقل ہوتے رہے تھے۔ ان کے والد اخوندزادہ مولانا غلام یحییٰ ہزاروی برصغیر کے ممتاز عالمِ دین تھے، جو اس وقت مولانا اشرف تھانوی کے جانشین کی حیثیت سے جامعہ الٰہیات کانپور کے مہتمم مقرر ہوئے جب تھانوی صاحب کانپور چھوڑ کر تھانہ بھون منتقل ہوئے۔ اسی علمی ماحول نے مولانا ذبیح کی ذہنی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔

ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے جامعہ الٰہیات کانپور، دارالعلوم دیوبند اور جامعہ ملیّہ دہلی جیسے ممتاز اداروں میں تعلیم حاصل کی، جہاں ان پر عصری اور دینی علوم کے جلیل القدر اساتذہ—خصوصاً ڈاکٹر ذاکر حسین—کا گہرا اثر پڑا۔


ابتدائی سیاسی شعور

صرف ۱۴ سال کی عمر میں وہ سول نافرمانی اور تحریکِ چھوڑ دو بھارت میں بھرپور شریک ہوئے۔ یہ وہ عمر تھی جب بیشتر بچے تعلیمی مصروفیات رکھتے ہیں، مگر مولانا ذبیح اس وقت ہی قومی تحریکوں میں سرگرم تھے۔ اسی دوران ان کی فکری پختگی نے انہیں مذہب اور سیاحت پر ابتدائی تحریریں لکھنے کی طرف مائل کیا۔

انہوں نے فارسی کے کلاسیکی ادب—خصوصاً مرقع دہلی از نواب درگاہ علی خان—کا مستند اردو ترجمہ کیا جو 1931 میں خواجہ حسن نظامی کے جرائد پیشوا اور مولوی میں شائع ہوا۔


صحافت کا آغاز

1930 کی دہائی کے اوائل میں انہوں نے بمبئی سے طنزیہ و مزاحیہ رسالہ Bombay Punch جاری کیا۔ بعد ازاں کانپور منتقل ہوکر انہوں نے ادبی ماہنامہ عارف شائع کیا جو بہت جلد اہلِ ادب کا پسندیدہ رسالہ بن گیا۔ اس میں مولانا حسرت موہانی اور مولانا آزاد سبحانی جیسے اکابرین کی تحریریں شامل ہوتی رہیں۔


1931 کے کانپور فسادات کی تاریخی رپورٹ

محض ۱۷ سال کی عمر میں انہوں نے 1931 کے کانپور فسادات پر ایک تاریخی اور نہایت مستند رپورٹ تحریر کی۔ یہ رپورٹ آج بھی اس دور کے مسلم مخالف فسادات کا معتبر حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ اس نے نہ صرف انہیں شہرت دی بلکہ انہیں ایک سنجیدہ اور جری محقق کے طور پر منوایا۔


تحریکِ آزادی اور سیاسی سرگرمیاں

1937 میں وہ لکھنؤ میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں سب سے کم عمر مندوب تھے۔ 1938 میں وہ مجلسِ احرار کے پبلسٹی سیکرٹری مقرر ہوئے اور 1939 میں مولانا عطا اللہ شاہ بخاری کی گرفتاری کے بعد انہوں نے عارضی طور پر جماعت کی صدارت بھی سنبھالی۔

انگریز حکومت نے انہیں متعدد بار گرفتار کیا، مگر یہ قید و بند ان کے عزم میں اضافہ ہی کرتی رہی۔


مسلم لیگ کی 1946 کی انتخابی مہم میں تاریخی کردار

1941 میں رہائی کے بعد انہوں نے کانپور سے ہفت روزہ قومی اخبار جاری کیا جو جلد ہی ایک نمایاں روزنامہ بن گیا۔ ان کی صحافتی مہارت اور سیاسی بصیرت نے قائداعظم محمد علی جناح کی توجہ حاصل کی، جس کے نتیجے میں انہیں 1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ یوپی کی مکمل پبلسٹی مہم کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

ان کی انتھک محنت، حکمت عملی اور مالی تعاون کے نتیجے میں مسلم لیگ یوپی کی 67 میں سے تقریباً تمام مسلم نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی۔

مزید برآں انہوں نے قائدِ ملت لیاقت علی خان کی تاریخی انتخابی مہم کی قیادت کی جس میں ان کا مقابلہ کانگریس کے معروف رہنما مولانا محمد احمد کاظمی سے تھا۔ یہ کامیابی تحریکِ پاکستان کی فیصلہ کن پیش رفت ثابت ہوئی۔ اس مہم کا تفصیلی ذکر مسرّت حسین زبیری کی خودنوشت A Voyage Through History میں ملتا ہے۔


پاکستان آمد اور صحافتی ترقی

قیامِ پاکستان کے بعد وہ کراچی منتقل ہوئے اور رئیس احمد جعفری کے ساتھ روزنامہ خُرشید کی بنیاد رکھی۔ 1949 میں انہوں نے حیدرآباد سے پہلا انگریزی اخبار Voice of Sindh جاری کیا۔ 1952 میں انہوں نے اپنی ذاتی ملکیت کا ایک بڑا پریس—جو آج سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ پریس ہے—حکومتِ سندھ کو عطیہ کر دیا۔

1953 میں وہ اپنے دیرینہ دوست اور والیِ سوات میجر جنرل جہانزیب کے اصرار پر سوات منتقل ہوئے اور اس خطے پر پہلی مستند کتاب "مناظرِ سوات" تحریر کی۔

1954 میں انہوں نے پشاور میں سکونت اختیار کی اور روزنامہ انجام کی اشاعت میں کردار ادا کیا، جو بعد میں مشرق بنا، جہاں وہ کچھ مدت تک چیف ایڈیٹر رہے۔


مسلم ایڈیٹرز کنونشن—صحافی تنظیموں کی بنیاد

1947 میں انہوں نے الطاف حسین (ڈان) اور حمید نظامی (نوائے وقت) کے ساتھ مل کر دہلی کے عربی کالج میں پہلا آل انڈیا مسلم نیوز پیپر ایڈیٹرز کنونشن منعقد کیا۔ اجلاس کا افتتاح قائداعظم نے کیا جبکہ صدارت لیاقت علی خان نے کی۔ تقسیم کے بعد اس تنظیم کی باقاعدہ بنیاد لاہور میں رکھی گئی—جو آج پاکستان کی صحافی تنظیموں کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔


ہجرت کے بعد ہندوستان سے دائمی عدمِ اجازت

ان کے قیمتی کتب خانے، مسودات اور مسلم لیگ کا پبلسٹی ریکارڈ UP حکومت نے نذرِ آتش کر دیا۔ بعد ازاں انہیں والدین کی قبروں پر فاتحہ کے لیے بھی ہندوستان آنے کی اجازت نہ ملی۔ یہ ان کے دل پر ایک گہرا زخم تھا۔


اسلام آباد—ان کا خواب اور اُن کی پیش گوئی

مولانا ذبیح اُن اولین پاکستانیوں میں شامل تھے جنہوں نے اس خطے کو پاکستان کا دارالحکومت بنانے اور اس کا نام اسلام آباد رکھنے کی تجویز دی۔ 1995 میں انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ F-9 پارک کو فاطمہ جناح پارک کا نام دیا گیا۔ انہوں نے تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں کی یادگاروں اور سڑکوں کے ناموں کے لیے بھی بھرپور جدوجہد کی۔


شخصیت اور کردار

وہ غیر معمولی دیانت اور خودداری رکھنے والے انسان تھے۔ انہوں نے کبھی سرکاری مراعات یا ذاتی فائدے کا مطالبہ نہیں کیا۔ وزرائے اعظم اور صدور سمیت اہم شخصیات جب ان سے ملاقات کیلئے آتیں تو ان کی دانش، قومی وفاداری اور عوام دوستی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتیں۔


علمی ورثہ

ان کی اہم تصنیفات میں شامل ہیں:

  • اسلام آباد – منزلِ مراد، ماضی، حال، مستقبل

  • اسلام آباد – تاریخ، تعمیر، اور شمالی علاقے

  • قرآنِ کریم کے انقلابی فیصلے

  • برصغیر میں مسلمانوں کے عروج و زوال کا آئینہ

  • ارتھ شاستر – چانکیہ کے اصولِ حکمرانی

اسلام آباد پر ان کی دو جلدوں پر مشتمل تاریخ آج بھی بے مثال تحقیقی کام ہے۔


وفات اور قومی سطح پر خراجِ عقیدت

وہ طویل علالت کے بعد 27 ستمبر 2001 کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے اور وہیں سپردِ خاک ہوئے۔ ان کے انتقال پر قومی سطح پر تعزیتی ریفرنسز منعقد ہوئے۔ دی نیشن کے اداریے نے لکھا:

"مولانا اسماعیل ذبیح کی وفات ایک قومی خسارہ ہے… انہوں نے اپنی محنت، تحقیق اور فکری ورثے سے اس ملک کو کہیں زیادہ واپس دیا جتنا وہ اس دنیا میں لے کر آئے تھے۔" 

معروف صحافی زیڈ اے سلہری کی وفات — سیاسی و صحافتی رہنماؤں کے تعزیتی پیغامات


 

معروف صحافی زیڈ اے سلہری کے انتقال پر سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ مختلف شخصیات نے مرحوم کے بلند درجات اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔

گورنر شاہد حامد نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ زیڈ اے سلہری نے صحافت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ہر ادارتی ذمہ داری میں انہوں نے اعلیٰ پیشہ ورانہ اوصاف کا مظاہرہ کیا اور ان کی خدمات طویل عرصے تک یاد رکھی جائیں گی۔

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ عرفان احمد ڈاھا نے کہا کہ مرحوم مسلم لیگ کے مخلص، محنتی اور باوقار کارکن تھے۔ ان کی وفات سے جماعت ایک ذہین، شریف اور باصلاحیت رکن سے محروم ہوگئی ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد اور نائب امیر لیاقت بلوچ نے مرحوم کی وفات کو قومی سانحہ قرار دیا۔ ان کے مطابق زیڈ اے سلہری نے تحریکِ پاکستان میں اہم کردار ادا کیا، آزادیٔ صحافت کے لیے سرگرم رہے اور ہمیشہ نظریۂ پاکستان اور دو قومی نظریے کا دفاع کیا۔

مرکزی جماعت اہلِ حدیث پاکستان کے سربراہ علامہ زبیر احمد ظہیر نے کہا کہ مرحوم نے پوری زندگی اسلام اور پاکستان کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی وفات سے صحافت کا ایک اہم باب بند ہوا، مگر ان کی تحریریں آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہیں گی۔

مجلسِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان کے اجلاس، جس کی صدارت اکرم علی خان نے کی، میں بھی مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اجلاس میں علی محتشم، بریگیڈیئر (ر) ظفر اقبال چوہدری، رانا صفدر جنگ، کرنل (ر) جمشید احمد خان ترین، ڈاکٹر اقبال سرہندی، چوہدری عبدالرشید سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

پاکستان فری لانْس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ اجلاس میں علامہ انور ظہوری، اقبال یوسفی، پروفیسر مظہر علی ادیب، کمال رضوی، نعیم قریشی، ابراہیم طاہر، تنویر زبیری اور شوکت اللہ نے مرحوم کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ایصالِ ثواب کی دعا کی۔

ایک الگ تعزیتی بیان میں گورنر شاہد حامد  نے دوبارہ مرحوم کی صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ممتاز صحافی تھے جنہوں نے صحافت میں ہمیشہ معیار اور دیانت کو ترجیح دی۔

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ عرفان احمد خان داھا اور چیئرمین ٹاسک فورس برائے ضروری اشیاء ایس۔اے۔ حمید نے بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا کہ مرحوم تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن تھے جن کی قومی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایس۔اے۔ ہاشمی نے اپنے بیان میں کہا کہ زیڈ اے سلہری نے اپنی پوری زندگی ملک و قوم کی خدمت میں گزاری۔ انہوں نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے صبر اور حوصلے کی دعا کی۔

۔فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے جشن آزادی کا آغاز بزرگ صحافی اسماعیل ذبیح کو بیج لگا کر کیا۔


فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے ارکان ایسوسی ایشن کے صدر اقبال احمد یوسفی کی قیادت میں بزرگ صحافی مولانا محمد اسماعیل ذبیح کو بیچ لگا کر یوم آزادی کا اغاز کر رہے ہیں۔

 فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے جشن آزادی کا آغاز بزرگ صحافی اسماعیل ذبیح کو بیج لگا کر کیا۔

لاہور (پ ر)  یوم آزادی کے موقع پر آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے ارکان نے جشن آزادی کا آغاز ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی کی قیادت میں تحریک پاکستان کے کارکن اور بزرگ صحافی مولانا محمد اسماعیل ذبیح کو قائدا اعظم محمد علی جناح کے قول پر مشتمل ایک بیج لگا کر کیا۔ اس موقع پر جناب اسماعیل ذبیح نے ایسوسی ایشن کے وفد سے بانی پاکستان کی قیادت و رفاقت کی اپنی تحریر کردہ کتابوں ادبی صحافتی سرگرمیوں کے بارے میں مختصراً گفتگو کی۔ 

جشن آزادی کی تقریبات پی ایف جے اے نے ممتاز صحافی و دانشور اسماعیل ذبیح کو بیج لگایا.

 

آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی جشن آزادی کے سلسلے میں بزرگ و دانشور مولانا اسمعاعیل ذبیح کو بیج لگا رہے ہیں۔

جشن آزادی کی تقریبات 
پی ایف جے اے نے ممتاز 
صحافی و دانشور اسماعیل 
ذبیح کو بیج لگایا.
لاہور (پ ر) پاکستان کا چھیالیس واں یوم آزادی آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام باوقار انداز میں منایا گیا۔ جشن آزادی کا آغاز ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی کی قیادت میں تحریک پاکستان کے نامور کارکن مشہور محقق و دانشور و ادیب اور بزرگ صحافی مولانا محمد اسماعیل ذبیح کو قائد اعظم محمد علی جناح کے قول پر مشتمل ایک بیج لگا کر کیا۔ اس موقع پر اسماعیل ذبیح نے ایسوسی ایشن کے وفد سے بانی پاکستان کی قیادت و رفاقت کی یادیں اپنی تحریر کردہ کتابوں ادبی و صحافی سرگرمیوں کے بارے میں مختصرا گفتگو کی۔ ایسوسی ایشن کے ارکان نے بعد میں قومی اخبارات سے وابستہ بعض سینیئر صحافیوں کو بھی جشن ازادی کا بیج لگایا۔