Pakistan Freelance Journalists Association - PFJA

Digital Archive

1999ء صحافیوں اور صحافتی اداروں کیلئے کڑے امتحان کا سال تھا: پی ایف جے اے سالانہ رپورٹ

1999ء صحافیوں اور صحافتی اداروں کیلئے کڑے امتحان کا سال تھا

پاکستان میں صحافیوں اور اخبارات کو مسلسل دباؤ اور تشدد کا سامنا رہا، اقبال یوسفی

سی آر شمسی، پرویز شوکت، فوزیہ شاہد اور دیگر کو دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا

لاہور (پ ر): بیسویں صدی کا آخری سال 1999ء پاکستان میں شعبہ صحافت کیلئے انتہائی سخت اور کڑے امتحان کا سال تھا۔ آزاد صحافیوں کی تنظیم فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی نے ایک بیان میں یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن کو مختلف عالمی اداروں، اقوام متحدہ اور حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں کی جانب سے جو اعداد و شمار اور حقائق موصول ہوئے ہیں ان کے مطابق پاکستان میں صحافیوں اور اخبارات کو سرکاری ایجنسیوں کی طرف سے مسلسل دباؤ اور تشدد کا سامنا رہا۔ تشدد کے ان واقعات کے دوران ٹھٹھہ کے ایک صحافی کی موت بھی واقع ہوئی جس پر مبینہ طور پر پولیس نے تشدد کیا اس کے علاوہ درجنوں صحافیوں کو گرفتار کیا گیا، بعض کو سنگین حالات کی دھمکیاں ملیں اور بعض کو مارا پیٹا گیا۔

فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی نے مختلف عالمی اداروں اور حقوق انسانی کی تنظیموں کی جانب سے موصول ہونے والی رپورٹیں جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 1999ء کے دسمبر کا دوسرا حصہ سال کا بدترین وقت تھا، 3 بڑے اخبارات پر مقدمے بنائے گئے، ایک ترک نیوز ایجنسی کے دفتر پر حملہ کیا گیا، 2 صحافیوں کو ابتدائی طور پر اغوا کیا گیا اور بعد میں چھوڑ دیا گیا، حکومت کیخلاف احتجاج کرنے والے صحافیوں پر تشدد کیا گیا اور فوٹو گرافروں کے کیمرے توڑ دیئے گئے۔ نواز حکومت نے صحافیوں کیخلاف انتقامی کارروائیوں کے دوران جن سینئر صحافیوں کو گرفتار کیا ان میں فرنٹیر پوسٹ کے چیف ایڈیٹر رحمت شاہ آفریدی، صحافی ندیم ملک، اسلام آباد میں ڈان کے بیورو چیف ایم ضیاء الدین اور امریکہ میں پاکستان کی موجودہ سفیر ملیحہ لودھی شامل ہیں۔ ان تمام صحافیوں کا قصور صرف سچ بولنا اور سچ کی حمایت کرنا تھا۔ لاہور کے ایک صحافی محمود احمد خان جنہوں نے نواز فیملی پر کرپشن کے سلسلے میں بی بی سی کیلئے فلم بنائی تھی کو سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے اغوا کرایا گیا۔ فرائیڈے ٹائمز کے ایڈیٹر نجم سیٹھی کو بغیر عدالتی وارنٹ کے ایک وفاقی ایجنسی نے گھر سے اٹھا لیا اور ان پر بھارت میں پاکستان کیخلاف تقریر کرنے کا الزام لگایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایک کالم نگار اور سیاستدان کو بھی ایجنسیوں نے اغوا کیا، کیونکہ انہوں نے بی بی سی کی فلم میں شریف فیملی کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا تھا۔ سینئر صحافیوں زاہد ملک، ملیحہ لودھی اور غازی صلاح الدین کو بھی نئی دہلی میں نجم سیٹھی کے ساتھ ایک سیمینار میں شرکت کی بنا پر گرفتار کیا گیا۔

آر آئی یو جے نے صحافیوں پر تشدد کے ان واقعات کیخلاف بھرپور احتجاج کیا، انہوں نے راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ آر آئی یو جے کے سرکردہ رہنمائوں سی آر شمسی، پرویز شوکت، فوزیہ شاہد اور دیگر کو ان حالات میں شدید مشکلات اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے تمام ایسے پولیس افسران جنہوں نے صحافیوں کیخلاف غیر قانونی کارروائیوں میں حصہ لیا سے استعفے لینے کا مطالبہ کیا۔ نیویارک میں بین الاقوامی شہرت یافتہ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے اپنی ایک رپورٹ میں نواز حکومت کی طرف سے پاکستان میں شعبہ صحافت کیخلاف ناروا سلوک کا ذکر کیا ہے۔ اس رپورٹ میں نیوز لائن, ہیرالڈ، ڈان، مشرق اور بی بی سی کے رپورٹر اور لیس ٹھیار پر حملے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 3 صحافیوں دی نیشن کے غلام فاروق، "آج" کے سلیم خان اور "شمال" کے غفور خان عادل کو سوات پولیس کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے ان صحافیوں کے مقامی دفاتر کو بند کر دیا اور دیگر صحافیوں کو گرفتار کرنے کیلئے چھاپے مارے جس میں مشرق اور ڈان کے علی حضرت باچہ، جمعہ رحمن افغان ایڈ ایڈیٹر (شمال) اور ڈلی جہاد کے حضرت بلال شامل ہیں۔ اوصاف اسلام آباد کے ایڈیٹر حامد میر پر بھی مقدمہ بنایا گیا، ان سب صحافیوں کا قصور صرف اور صرف پولیس اور انتظامیہ کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنا تھا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پولیس نے لاہور پریس کلب پر بھی حملہ کیا اور اس کے سیکرٹری اور دیگر صحافیوں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1999ء کے دوران حالت جنگ میں رہنے والے ممالک میں فرائض انجام دینے والے 91 صحافی اور میڈیا ورکرز ہلاک ہوئے۔ بلغراد میں واقع میڈیا بلڈنگ پر نیٹو کے جنگی طیاروں کی بمباری سے 41 میڈیا ورکرز ہلاک ہوئے۔ سیرا لیون میں تاریخ کی سب سے بڑی خانہ جنگی کے دوران 11 مقامی صحافی ہلاک ہوئے، انڈونیشیا میں مشرقی تیمور میں 3 صحافی ہلاک کئے گئے، کولمبیا میں خانہ جنگی کے دوران 8 صحافی ہلاک ہوئے، جبکہ الجزائر میں منتخب حکومت کی جگہ دوسری حکومت مسلط کرنے کی کوشش کے دوران خانہ جنگی میں 150 صحافی ہلاک کئے گئے اور بقیہ صحافیوں کی جان بچانے کیلئے انہیں عالمی اداروں کی مدد سے بیلجئم میں پناہ دلوائی گئی۔

طالبان حکومت سے ایرانی صحافی کو تحفظ دینے اور پاکستان یا ایران روانگی کے انتظامات کرنے کی اپیل

 

لاپور (پ ر): انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی رکن پاکستانی صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے حکومتِ افغانستان ایک خصوصی اپیل میں ایران کی خبر رساں ایجنسی ارما کی نمائندے محمود صارمی  کی جان کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ان کو بحفاظت پاکستان یا ایران پہنچانے کے لئے کہا ہے پی ایف جے اے کے صدر اقبال یوسفی اپیل میں کہا ہے کہ وہ اپنی شہریوں کے ساتھ غیر ملکی باشندوں کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔