PFJA Logo

پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن

محفوظ شدہ تاریخی دستاویزات ۱۹۷۹ تا حال

Establishing connection . . . 1979 Archive Online

Pakistan Freelance Journalists Association - PFJA

Digital Archive
1979 Journal Founding

ممتاز ادیب اسماعیل ذبیح کو آزاد صحافیوں کی تنظیم کے صدر اقبال یوسفی قائد اعظم بیج لگا رہے ہیں

پاکستان کا چھیالیس واں یوم آزادی آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام باوقار انداز میں منایا گیا۔ جشن آزادی کا آغاز ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی کی قیادت میں تحریک پاکستان کے نامور کارکن مشہور محقق و دانشور و ادیب اور بزرگ صحافی مولانا محمد اسماعیل ذبیح کو قائد اعظم محمد علی جناح کے قول پر مشتمل ایک بیج لگا کر کیا۔۔

Historical Archives newspaper

۱۹۹۴ء — انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) اور فر یڈرک ایبرٹ اسٹفٹنگ (FES) ریجنل کانفرنس، کولمبو، سری لنکا

سارک ممالک کی صحافتی تنظیموں کے نمائندوں کے کولمبو میں اجلاس کا ایک منظر، پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی بھی شریک ہیںں۔۔

Press Freedom ink quill

دی نیوز انٹرنیشنل 17 دسمبر 1994ء

فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے تحت مسجد شہداء میں ایڈیٹر تکبیر محمد صلاح الدین شہید کیلئے قرآن خوانی کی جا رہی ہے۔。

Modern press machinery

روزنامہ جنگ لاہور ( 3 ) 13 ستمبر 1993ء

پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کا ایک وفد تنظیم کے صدر اقبال یوسفی کی قیادت میں ٹریفک حادثہ میں شدید زخمی ہونے والے سینئر صحافی وقار عثمانی کی عیادت کر رہا ہے؛ اس موقع پر تنظیم کی جانب سے صحافی کو گلدستہ بھی پیش کیا گیا۔۔

Press photography history

جشن آزادی کے سلسلے میں پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر مسٹر اقبال یوسفی ممتاز صحافی دانشور، ادیب اور تحریک پاکستان کے کارکن مسٹر زیڈ اے سلہری کو قائد اعظم بیج لگا رہے ہیں

لاہور (پ ر) آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس ایسوسی ایشن نے جشن آزادی کی تقریب کا آغاز برصغیر کے ممتاز بزرگ ادیب اور صحافی دانشور اور تحریک پاکستان میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں حصہ لینے والے کارکن زیڈ اے سلہری کو پی ایف جے اے کی جانب سے ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی نے قائد اعظم کا بیج لگا کر کیا اس موقع پر دیگر صحافیوں کے علاوہ ابراہیم طاہر نعیم قریشی مظہر علی ادیب کوکب خان خلیل قریشی اور رحمن زلفی شامل تھے انہوں نے نوجوانوں اور خصوصاً صحافیوں کو تلقین کی وہ قائد اعظم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملکی سالمیت کے لئے کام کریں اور قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل کو اپنا مشن بنالیں۔۔۔

Archives library room

پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (PFJA) کے ارکان آزادی صحافت کے عالمی دن (International Press Freedom Day) کے موقع پر ایک بینر اٹھائے ہوئے ہیں، جس پر صحافیوں کے حقوق اور آزادی صحافت کے حوالے سے پیغام درج ہے۔' .

Freelancer report writing

روزنامہ صحافت 5 اگست 1999

پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی، آزادیِ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) کی جانب سے ممتاز صحافتی خدمات کے اعتراف میں سینئر صحافی مجید نظامی کو ایوارڈ پیش کر رہے ہیں؛

Historical microphone broadcast

3 فروری 1993 روزنامہ مشرق لاہور

جب پریس کی تاریک ترین گھڑی میں پی ایف جے اے اور دیگر صحافتی تنظیمیں سڑکوں پر نکلیں اور بولنے اور لکھنے کی آزادی کا لوہا منوایا۔۔

Archive folder files

مولانا اسماعیل ذبیح کے علمی دستاویزات

ایسوسی ایشن کے تاسیسی اراکین اور ممتاز فکری پیشوا مولانا اسماعیل ذبیح کے تاریخی خطوط، فکری خدمات اور صحافتی جدوجہد کا ریکارڈ۔۔

Global press communications

عالمی آزادیِ صحافت یکجاز کا مکتوب

پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کا دنیا بھر کے آزاد نامہ نگاروں کے ساتھ اشتراک عمل جو دنیا کو ایک خاندان کی طرح جوڑتا ہے۔۔

تاریخی انٹرویو: فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی سے خصوصی ملاقات — روزنامہ صحافت (1999ء)


 

پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی سے ایک خصوصی ملاقات

روزنامہ صحافت — 5 اگست 1999ء

تعارف

جناب اقبال یوسفی پچھلے 20 برسوں سے فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (PFJA) کے پلیٹ فارم سے فی سبیل اللہ صحافیوں کے مسائل اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) نے انہیں اپنی رکنیت سے نوازا، اور اس طرح اقبال یوسفی پاکستان کے وہ واحد صحافی ہیں جنہیں انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی رکنیت کا اعزاز حاصل ہوا۔ روزنامہ ’صحافت‘ نے اپنے قارئین کو فری لانس جرنلزم (آزاد صحافت)، اس کے اغراض و مقاصد اور اہمیت سے روشناس کرانے کے لیے پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو کا اہتمام کیا، جو نذرِ قارئین ہے۔

صحافت: یوسفی صاحب! فری لانس جرنلزم سے کیا مراد ہے اور اب تک آپ نے اس پلیٹ فارم سے کیا خدمات سرانجام دی ہیں؟

اقبال یوسفی: فری لانس جرنلزم کا سیدھا سادھا مطلب 'آزاد صحافت' ہے۔ یعنی ایک ایسا صحافی جو کسی مخصوص اخبار یا میگزین کا باقاعدہ ملازم نہ ہو، بلکہ اپنی مرضی اور ضمیر کے مطابق سیاسی، ثقافتی، سماجی، معاشی، علاقائی اور بین الاقوامی موضوعات پر حقائق پر مبنی لکھے، اسے فری لانس جرنلسٹ کہتے ہیں۔ دنیا بھر اور بالخصوص یورپ میں ایسے آزاد صحافیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور معاشرے میں ان کا احترام اور اہمیت تسلیم شدہ ہے۔

پاکستان میں پہلے فری لانس جرنلزم کا کوئی خاص تصور موجود نہ تھا۔ اس تصور کو روشناس کرانے میں معروف صحافی (مرحوم) اے ٹی چوہدری صاحب کا بنیادی کردار ہے، جو پہلے نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبار 'دی پاکستان ٹائمز' اور بعد میں 'دی مسلم' کے چیف ایڈیٹر رہے۔ جب وہ اپنی ایڈیٹر شپ سے فارغ ہوئے، تو ہم نے مل کر 'فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن' کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ پاکستان میں ہمارے ارکان کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود ہم نے اس تنظیم کو اپنے محدود وسائل سے بڑھ کر متحرک کیا اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بھی فری لانس جرنلزم والے ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا۔

اللہ کا شکر ہے کہ اس وقت ہماری تنظیم پاکستان کی واحد صحافتی تنظیم ہے جو صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم (IFJ) کی رکن ہے اور ہمیں دنیا بھر سے ریفرنسز آتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ بھی ایک بڑا اعزاز ہے کہ اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام سال میں ایک بار دنیا بھر کے چیدہ چیدہ صحافیوں کی ایک 'واٹر کانگریس' منعقد ہوتی ہے، جس میں پاکستان سے صرف ہماری ایسوسی ایشن کا نمائندہ شرکت کرتا ہے۔ اس کانگریس میں دنیا بھر کے صحافی باہمی مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور ان کے حل کے لیے سفارشات مرتب کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہماری ایسوسی ایشن پاکستان میں کسی بھی ایسے صحافی کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتی ہے جو جرات مندانہ کارنامہ سرانجام دے یا معاشرتی برائیوں کو بے نقاب کرے، اور ہم انہیں بین الاقوامی سطح پر متعارف بھی کرواتے ہیں۔

ہماری ایسوسی ایشن ہر سال تحریکِ پاکستان میں حصہ لینے والے بزرگ صحافیوں کے اعزاز میں ایک باوقار تقریب کا انعقاد کرتی ہے اور ان میں سے کسی ایک منتخب صحافی کو قائدِ اعظم بیج (Medal) لگاتی ہے۔ اب تک فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن تحریکِ پاکستان میں تاریخی کردار ادا کرنے والے جن نامور صحافیوں کو یہ اعزاز دے چکی ہے، ان میں جناب ممتاز احمد خان، ڈاکٹر ضیاء الاسلام، زیڈ اے سلہری (مرحوم)، بی اے قریشی، اسماعیل ذبیح اور سید انوار ظہوری شامل ہیں۔

ہماری ایسوسی ایشن لفاظی کے بجائے ٹھوس اور تعمیری کاموں پر زیادہ توجہ دیتی ہے اور ہماری اس پالیسی کا سب سے زیادہ فائدہ ورکنگ جرنلسٹس کو پہنچتا ہے۔ ہم نے اپنے پلیٹ فارم سے اے ڈی مرزا سے لے کر رانا اقبال (مرحوم) تک، اپنے وسائل سے بڑھ کر صحافیوں کی مالی امداد کی۔ رانا اقبال (مرحوم) کی مثال سب کے سامنے ہے، جن کا شمار انتہائی دیانت دار اور فرض شناس صحافیوں میں ہوتا تھا۔ انہیں جب بلاوجہ ملازمت سے فارغ کیا گیا تو وہ اس صدمے سے شدید علیل ہو گئے۔ ہم ہسپتال میں ان کی عیادت کے لیے گئے اور ان کے مخدوش حالات کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر اپنے فنڈز سے 50 ہزار روپے کی امداد پہنچائی، اور بعد میں وفاتی و صوبائی حکومتوں پر زور ڈال کر مزید 75 ہزار روپے منظور کروائے۔ لیکن افسوس! ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود وہ علاج کے لیے بیرونِ ملک نہ جا سکے، کیونکہ ہمارے پاس ان کی اہلیہ کو ساتھ بھیجنے کے اخراجات کے وسائل نہیں تھے، اور اس مجبوری کے باعث ہم رانا اقبال کو موت کے منہ سے نہ بچا سکے۔

یہاں یہ امر انتہائی قابلِ ذکر اور افسوس ناک ہے کہ ہماری صحافتی برادری بے حسی کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ اگر خدانخواستہ کوئی صحافی بیمار پڑ جائے یا فوت ہو جائے، تو امداد کے لیے صحافی بھائی کام نہیں آتے۔ اس سے بڑا دکھ اور کیا ہوگا کہ اگر کوئی صحافی انتقال کر جائے تو جنازے میں صرف چند قریبی دوست ہی شریک ہوتے ہیں۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ جب روزنامہ 'جنگ' کے بانی میر خلیل الرحمن، اس کے بعد ہفت روزہ 'تکبیر' کے ایڈیٹر صلاح الدین (مرحوم)، اور اب حال ہی میں تحریکِ پاکستان کے مخلص کارکن زیڈ اے سلہری کا انتقال ہوا، تو ان کی قرآن خوانی، رسمِ قل یا چہلم میں شرکت کے لیے کوئی نہیں آیا، جس پر ہمیں تینوں بار شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم، یہاں میں نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی کا ذکر خیر ضرور کروں گا۔ وہ ایسے نیک کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ زیڈ اے سلہری مرحوم اگرچہ ان کا گروپ چھوڑ کر دوسرے اخباری گروپ میں چلے گئے تھے، لیکن ان کی وفات پر مجید نظامی صاحب سب سے آگے تھے؛ وہ سلہری صاحب کی یاد میں منعقدہ ہر تقریب میں شامل ہوئے اور اپنے اخبار میں بہترین کوریج بھی دی۔ یہی وجہ ہے کہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) نے آزادیٔ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر، پاکستان کی نظریاتی اساس اور ملک و قوم کے مفاد میں بے باک، جرات مندانہ اور فنی کردار ادا کرنے پر جناب مجید نظامی کے لیے ایک یادگار انٹرنیشنل ایوارڈ بھیجا، جس کے لیے ہم نے مجید نظامی صاحب کا انتخاب کیا تھا۔

تصویر کا حوالہ  پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی، آزادیٔ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی جانب سے ممتاز صحافتی خدمات کے اعتراف میں سینئر صحافی مجید نظامی کو ایوارڈ پیش کر رہے ہیں۔


صحافت: یوسفی صاحب! کیا آپ کو اپنی ایسوسی ایشن چلانے کے لیے حکومتِ پاکستان یا بیرونِ ملک سے کسی قسم کی مالی امداد ملتی ہے؟ اور کیا آپ کی ایسوسی ایشن نے بین الاقوامی سطح پر کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہے؟

اقبال یوسفی: آپ کا سوال بہت اہم ہے۔ میں یہاں بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہمیں آج تک کسی بھی پاکستانی حکومت یا غیر ملکی صحافتی تنظیم کی طرف سے ایک پائی کی بھی امداد نہیں ملی۔ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں، صرف اپنے ممبران کے چندے اور تعاون سے کرتے ہیں۔ مختلف تقریبات کے انعقاد کے لیے بھی ہم کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے بلکہ اپنی جیب سے اخراجات پورے کرتے ہیں۔

یہاں یہ کڑوا سچ بولنا بھی ضروری ہے کہ ہماری بہت سی مروجہ صحافتی تنظیمیں اس وقت صحافیوں کی فلاح و بہبود یا ان کے حقوق کی حقیقی جدوجہد نہیں کر رہیں۔ ان تنظیموں کے عہدے دار منتخب ہونے کے بعد مختلف ہتھکنڈوں سے اپنے لیے فنڈز اور پیسے اکٹھے کرتے ہیں اور ہضم کر جاتے ہیں، لیکن جو لوگ سچے دل سے صحافیوں کے لیے کام کر رہے ہیں، ان کی کہیں سے کوئی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔

آپ کے سوال کے دوسرے حصے کا جواب یہ ہے کہ جب سے ہماری ایسوسی ایشن بین الاقوامی تنظیم (IFJ) کی رکن بنی ہے، ہماری ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ ہم نے عالمی سطح پر مختلف ممالک کے صحافیوں کو درپیش مسائل اور ان کی اسیری (قید و بند) کے خلاف آواز اٹھائی اور کامیابی حاصل کی۔ ایک تازہ ترین واقعہ سناتا ہوں: آسٹریلیا کی صحافتی تنظیم نے ہمیں خط لکھا کہ افریقی ملک 'ٹونگا' میں چار صحافیوں کو پارلیمنٹ اور حکومت کے خلاف لکھنے کی پاداش میں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس پر میں نے فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی طرف سے ٹونگا کے وزیراعظم کو ایک خط لکھا۔ اس ڈپلومیٹک خط میں، میں نے پریس اور حکومت کے مابین خوشگوار تعلقات اور باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ان صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ آپ یقین جانیں کہ ٹونگا کے وزیراعظم نے ان چاروں صحافیوں کو رہا کرنے کے بعد باقاعدہ فیکس کے ذریعے مجھے اس کی اطلاع دی۔ اسی طرح، اس وقت ہم برازیل کے ایک صحافی کا ذاتی کیس ڈیل کر رہے ہیں اور برازیل کی حکومت کے ساتھ ہماری خط و کتابت اور بات چیت جاری ہے۔

آپ دنیا بھر میں دیکھ رہے ہیں کہ صحافتی تنظیمیں اپنے ارکان کے حقوق کے لیے کس قدر متحرک ہیں، جو ہمارے یہاں کے لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے۔ برطانیہ کی 'نیشنل یونین آف جرنلسٹس' کی مثال ہی لے لیں؛ انہوں نے اخبار سے نکالے جانے والے ایک ملازم کے حقوق کے لیے عدالت میں مقدمہ لڑا اور اس اکیلے کیس پر پاکستانی کرنسی کے حساب سے تقریباً 7 کروڑ روپے خرچ کر دیے، جس کا ہم یہاں تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ، ہماری پیرنٹ تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) کا اپنا ایک بہت بڑا سیکرٹریٹ ہے جہاں سینکڑوں افراد پر مشتمل عملہ کام کرتا ہے۔ ان کے متحرک ہونے اور فنڈز کی فراوانی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب الجزائر میں خانہ جنگی کے دوران صحافیوں کا قتلِ عام شروع ہوا، تو آئی ایف جے نے پہلے اقوامِ متحدہ کے ذریعے اپیلیں بھی کیں، لیکن جب یہ سلسلہ نہ رکا تو آئی ایف جے نے الجزائر سے ان تمام صحافیوں کو، جن کی جانوں کو شدید خطرہ تھا، وہاں سے نکالا اور اپنے خرچے پر بیلجیئم منتقل کر کے پناہ دلائی، جہاں emblems انہیں زندگی کی تمام تر سہولیات میسر ہیں۔

صحافت: اقبال یوسفی صاحب! کیا آپ کے خیال میں ہمارے ہاں اخبارات کو مکمل آزادی حاصل ہے؟ اور کیا حکومت اخبارات پر دباؤ ڈال کر انہیں اپنے حق میں استعمال کر سکتی ہے؟

اقبال یوسفی: آزادیٔ صحافت کا اصل مسئلہ محمد خان جونیجو کے دورِ حکومت سے پہلے کا تھا، جب لکھنے پر سخت پابندیاں تھیں اور مارشل لا حکومتیں اخبارات کا گلا گھونٹنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے انہیں اپنے حق میں لکھنے پر مجبور کرتی تھیں۔ لیکن محمد خان جونیجو کے دور اور جمہوریت کی بحالی کے بعد آزادیٔ صحافت کا اب وہ پرانا مسئلہ باقی نہیں رہا۔ اخبارات نے بحال جمہوریت کے بعد پریس کی آزادی کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دیا، جو کہ ایک بہترین روایت ہے اور بعد میں آنے والی حکومتوں کو بھی اس کا احترام کرنا پڑا۔ اگر آج کوئی اخبار میاں نواز شریف کے حق میں لکھتا ہے تو یہ اس کی اپنی پالیسی یا ذمہ داری ہے، حکومت کی طرف سے کسی اخبار پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ میرے خیال میں اب حکومتیں اخبارات کے خلاف 'اشتہارات کا کلہاڑا' بھی اس طرح استعمال نہیں کر پاتیں؛ اگر حکومت کسی اخبار کے اشتہارات بند بھی کر دے تو یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل پاتا اور بالآخر اشتہارات بحال کرنے پڑتے ہیں۔

اس موقع پر میں یہ بھی کہوں گا کہ اگر حکومت کسی بڑا اخبار پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے، تو پوری اخباری صنعت کے کارکنان حکومت کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں اور حکومت کو مجبوراً مذاکرات کر کے کارکنوں کے حق میں فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ جب کسی عام صحافی کو اخبار سے نکالا جاتا ہے یا صحافیوں کو اجتماعی طور پر معاشی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، تو اخباری مالکان ان کا حال تک نہیں پوچھتے۔ اگر یہی کارکنان اخباری مالکان کو اپنی طاقت فراہم نہ کریں، تو آج بڑے بڑے اخباروں کا ناطقہ بند ہو جائے۔

پرانے وقتوں میں اگر کوئی شخص اپنی خبر لگوانے کے لیے کسی رپورٹر یا نیوز ایڈیٹر کی دراز میں چند سو روپے رکھ آتا تھا، تو وہ لوگ جب تک اس شخص کو تلاش کر کے اس کے پیسے واپس نہیں کر دیتے تھے، انہیں چین نہیں آتا تھا۔ لیکن اب صحافت میں کرپشن کے فروغ کی بات کی جائے تو اس 'لفافہ جرنلزم' میں حکومتوں نے بھی بڑا کردار ادا کیا ہے۔ حکومتوں نے اپنے منظورِ نظر صحافیوں کو پلاٹ اور نقد رقم دے کر دوسری سیاسی جماعتوں کے لیے بھی اس قبیح روایت کے دروازے کھول دیے۔ آج جرنلزم میں جو برائیاں سرایت کر چکی ہیں، اس کی وجہ سے صحافت اور صحافی برادری معاشرے میں بے وقعت ہو کر رہ گئی ہے، یہاں تک کہ اب لکھنے کا وہ اثر بھی باقی نہیں رہا۔

یہاں میں نجم سیٹھی جیسے اخبار نویس کا ذکر ضرور کروں گا، جن کا کام صرف ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے اور وہ اسی ایجنڈے پر کام کرتے رہتے ہیں۔ معلوم نہیں ان کے کیا عزائم ہیں اور کون ان سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کا کام لے رہا ہے۔ جب انہیں حکومت نے گرفتار کیا، تو ہمیں کہا گیا کہ ان کی گرفتاری کے خلاف ملک گیر اور عالمی سطح پر احتجاج کیا جائے، لیکن میں نے صاف انکار کر دیا اور مطالبہ کرنے والوں سے کہا کہ مجھے یہ شخص محبِ وطن نظر نہیں آتا، اس کی سرگرمیاں مشکوک ہیں، اس لیے میں اس کی گرفتاری پر احتجاج نہیں کر سکتا۔ دوسری مثال 'دی فرنٹیئر پوسٹ' کے ایڈیٹر رحمت شاہ آفریدی کی ہے؛ ان کی گرفتاری پر بھی ہم نے احتجاج نہیں کیا، بلکہ حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ ان پر عائد الزامات کی ٹھوس بنیادوں پر شفاف تفتیش کی جائے اور ان کا ڈیکلریشن واپس لیا جائے۔

ہماری اخباری دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں چور، ڈاکو، اسمگلر، کالے دھن والے اور بڑے سرمایہ دار اپنے ناجائز مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اخبارات نکال رہے ہیں اور صحافت کی آڑ لے رہے ہیں۔ لیکن یہ تماشہ اب زیادہ دیر نہیں چلے گا، کیونکہ صحافی برادری اب اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کو پہچان چکی ہے۔

صحافت: یوسفی صاحب! ماضی کا کوئی ایسا اہم واقعہ بتائیں جو قارئین کی دلچسپی کا باعث ہو؟

اقبال یوسفی: میں یہاں یہ بتاؤں گا کہ ہمارے موجودہ وزیراعظم میاں نواز شریف میرے اس وقت کے دوست ہیں جب انہوں نے سیاست کے میدان میں قدم بھی نہیں رکھا تھا اور وہ 'اتفاق برادرز' کے ایم ڈی ہوا کرتے تھے۔ میرے اور موجودہ وزیراعلیٰ شہباز شریف صاحب کے کمرے بالکل ساتھ ساتھ ہوا کرتے تھے۔ میں جب بھی ان کے ہاں جاتا، دونوں بھائی انتہائی خلوص اور گرمجوشی سے ملتے تھے۔ لیکن جب سے انہوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا، اس کے بعد سے میری ان سے ملاقات نہیں ہوئی اور آج نواز شریف صاحب ملک کے وزیراعظم بن چکے ہیں۔

اس کے علاوہ، جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے وزیراعظم کی حیثیت سے یہ خواہش ظاہر کی کہ انہیں بھی کوئی صحافتی تنظیم اپنی رکنیت دے، تو میں نے 'خلیج ٹائمز' اور 'وال اسٹریٹ جرنل' میں ان کے شائع ہونے والے مضامین (Articles) کی بنیاد پر انہیں فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی اعزازی رکنیت پیش کی، جس پر وہ انتہائی مسرور ہوئیں۔ بعد کی حکومتوں نے ہم پر دباؤ بھی ڈالا کہ ہم بے نظیر بھٹو کی یہ ممبرشپ منسوخ کر دیں، لیکن ہم نے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور ممبرشپ برقرار رکھی۔

میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی سرپرستی کرے؛ ہمارے پاس صحافی برادری کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے بہترین پروجیکٹس ہیں، ہم ان کے لیے اسکول، رہائشی اسکیمیں اور ڈسکاؤنٹ اسکیمیں شروع کرنا چاہتے ہیں، لیکن وسائل نہ ہونے کے باعث مجبور ہیں۔ تاہم ہماری کوششیں جاری ہیں اور یہ جدوجہد صحافی برادری کے حقوق کے حصول تک ختم نہیں ہوگی۔

آخر میں، میں اپنے اس انٹرویو کے دوران روزنامہ 'صحافت (دوپہر)' کے چیف ایڈیٹر، مخلص کارکن صحافی اور اپنے چھوٹے بھائی خوشنود علی خان کا ذکرِ خیر ضرور کروں گا اور اپنے دیگر صحافی بھائیوں کو نصیحت کروں گا کہ وہ خوشنود علی خان کی محنت اور ان تھک جدوجہد سے سبق سیکھیں۔ انہوں نے ایک عام اخباری کارکن کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور اپنی خداداد صلاحیتوں اور محنت کے بلبوتے پر آج بڑے بڑے سرمایہ دار اخباری مالکان کے مقابلے میں ایک بڑے اخبار کے مالک بن کر ابھرے ہیں، جو تمام ورکنگ جرنلسٹس کے لیے باعثِ مسرت اور قابلِ فخر ہے۔ خوشنود علی خان نے ہمیشہ ہماری تنظیم (PFJA) کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور ہر مشکل مرحلے پر ہماری مدد کی۔ آج جب میں خوشنود علی خان کی صورت میں ایک اخباری کارکن کو اخبار کا مالک دیکھتا ہوں تو میرا دل خوشی سے باغباغ ہو جاتا ہے۔ میں دیگر کارکن صحافیوں کو بھی یہی نصیحت کروں گا کہ وہ محنت کو اپنا شعار بنائیں، اللہ تعالیٰ ان کی مدد ضرور فرمائے گا۔

ایک بار میں آسٹریلیا گیا، تو وہاں انٹرنیشنل کانفرنس کے موقع پر دیگر ممالک کے نامور اخبار نویسوں سے گفتگو کے دوران انہوں نے خوشنود علی خان کے کالموں کا خاص طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ممالک کے مقتدر اور ذمہ دار لوگ پاکستان کے چند گنے چنے کالم نگاروں میں سے خوشنود علی خان کے کالموں کا ترجمہ کروا کر ضرور پڑھتے ہیں۔ غیر ملکی صحافیوں کی زبان سے اپنے ایک ہم وطن اور اخباری کارکن کی یہ عالمی شہرت اور پذیرائی سن کر میرا سر فخر سے بلند ہو گیا۔

Freelance journalists pay tributes to Shafi

 

 

THE PAKISTAN Freelance Journalists Association has expressed deep sorrow and grief over the sad demise of the renowned journalist Mian Shafi (Meem Sheen).

The condolence meeting of the Association, convened on Saturday with Iqbal Yousufi in the chair, paid rich tribute to the services rendered by the departed soul for journalism. Fazl-ur-Rehman Naeem, Naeem Qureshi, Khalid Pervez Malik and Rehman Zulfi speaking on the occasion said that Mian Shafi was an important organ of the Pakistan’s Freedom Movement and that his services both for Pakistan and journalism will be hard to forget.

Prominent among the rest who also spoke on the occasion were Zafar Ali raja, Tahir Lahori, Neveed Bukhari, Ibrahim Tahir, Imtiaz Rasheed Qureshi, Afaq Ali Khan, Idrees Usmani, Kamal Rizvi, Ahsan Bashir and Habibur Rehman Usmani. Later Fateha was offered for the departed soul. —PR


Pakistan Freelance Journalists Association Honors Maulana Muhammad Ismail Zabeeh on Independence Day (14 August 1992)


Pakistan Freelance Journalists Association Honors Maulana Muhammad Ismail Zabeeh on Independence Day (14 August 1992)

Historical archival photographs and the accompanying press release documenting a special Independence Day event organized by the Pakistan Freelance Journalists Association (PFJA) to honor the veteran scholar and journalist of the subcontinent:

Event Overview

Occasion: 46th Independence Day of Pakistan

Date: 14 August 1992

Location: Lahore

Key Dignitaries: Maulana Muhammad Ismail Zabeeh, Iqbal Yousufi (PFJA President), Muhammad Badr Munir


Lahore (PR) — The 46th Independence Day of Pakistan was observed with dignity under the auspices of the Pakistan Freelance Journalists Association. The celebrations began with Association President Iqbal Yousufi affixing a commemorative badge—bearing a quote of Quaid-i-Azam Muhammad Ali Jinnah—to the waistcoat of renowned Pakistan Movement activist, eminent researcher, scholar, writer, and veteran journalist Maulana Muhammad Ismail Zabeeh.

On this occasion, Maulana Ismail Zabeeh shared with the Association’s delegation his memories of companionship with the Founder of Pakistan and significant moments of the Pakistan Movement. He also briefly spoke about his published works, literary contributions, and journalistic endeavours, which the participants listened to with great interest.

Continuing the Independence Day spirit, members of the Association later presented the Independence Day badge to several senior journalists associated with national newspapers, paying tribute to their services.

Archival Photograph Visual Descriptions

Photograph 1 (Affixing the Badge)

The photograph captures the precise moment PFJA President Iqbal Yousufi is affixing the commemorative Independence Day badge to the waistcoat of Maulana Muhammad Ismail Zabeeh.

  • Maulana Muhammad Ismail Zabeeh, the venerable scholar, stands centrally in a dark sherwani/waistcoat and a traditional cap.

  • Iqbal Yousufi is standing on the right, carefully pinning the badge.

  • Renowned journalist Muhammad Badr Munir and other executive members of the association stand alongside them observing the ceremony.

Photograph 2 (Group Portrait)

A commemorative group portrait taken during the delegation's visit. Maulana Muhammad Ismail Zabeeh is seen wearing the prominent green and white Independence Day rosette badge on his chest, flanked by Iqbal Yousufi, Muhammad Badr Munir, and supporting members of the Pakistan Freelance Journalists Association delegation.

PFJA Awards Quaid-i-Azam Badge to Veteran Journalist Mumtaz Ahmad Khan

Mumtaz Ahmad Khan Awarded Quaid-i-Azam Badge
The Pakistan Freelance Journalists Association (PFJA) celebrated Independence Day with a special ceremony honoring senior journalist Mumtaz Ahmad Khan, who played an active role in the Pakistan Movement.

In recognition of his lifelong contributions to journalism and the struggle for independence, PFJA President Iqbal Ahmad Yousufi presented him with the “Quaid-i-Azam Badge.”

Mumtaz Ahmad Khan worked closely with Quaid-i-Azam Muhammad Ali Jinnah during his student years and early career as a journalist.

The event was attended by several notable freelance journalists, including Dr. Masoom Abidi, Allama Anwar Zahoori, Professor Mazhar Ali Adeeb, and Imtiaz Rasheed Qureshi, who joined in prayers for the prosperity and progress of Pakistan.

In his concluding remarks, Mumtaz Ahmad Khan shared heartfelt memories of his association with Quaid-i-Azam, recalling moments that inspired him to pursue a life dedicated to truth and integrity in journalism.


پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے معروف صحافی تحریک پاکستان کے کارکن ممتاز احمد خان کو قائد اعظم  بیج لگانے کے بعد ڈاکٹر معصوم عابدی، اقبال یوسفی، مظہر علی ادیب، علامہ انور ظہوری، امتیاز رشید قریشی، طفیل اسلم   شاہد کے ساتھ گروپ فوٹو - روزنامہ مساوات

   
جشن آزادی پر پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے صحافی ممتاز احمد خان کو "قائد اعظم" بیج  لگا رہے ہیں ان کے ہمراہ ڈاکٹر معصوم عابدی، علامہ انوار ظہوری، مظہر علی اور امتیاز رشید کھڑے ہیں - روزنامہ جنگ
        
جشن آزادی کے آغاز پر پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن  کے صدر اقبال یوسفی معروف صحافی ممتاز احمد خان کو قائداعظم بیج لگا رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ڈاکٹر معصوم عابدی، علامہ انوار ظہوری، مظہر علی ادیب، امتیاز رشید قریشی کھڑے ہیں۔ روزنامہ جنگ

فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے جشن آزادی پر تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن سینئر صحافی ممتاز احمد خان کو قائد اعظم بیج لگایا۔ روزنامہ جنگ
آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے روایات کے مطابق اس سال بھی جشن آزادی کا آغاز تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے سینیئر صحافی ممتاز احمد خان سابق سینیٹر کو قائداعظم بیج ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی نے لگا کر کیا۔ ممتاز احمد خان نے بطور طالب علم اور صحافی قائد اعظم محمد علی جناح کے بہت قریب رہ کر قیام پاکستان کے لیے گَراں قَدْر خدمات انجام دیں اس باوقار تقریب کے موقع پر ڈاکٹر معصوم عابدی، علامہ انوار ظہوری، پروفیسر مظہر علی، امتیاز رشید قریشی کے علاوہ اور دوسرے فری لانس صحافی بھی موجود تھے بیج لگانے کے بعد تمام حاضرین نے پاکستان کی سالمیت، خوشحالی اور اس کا کام کے لیے دعائیں مانگی اور شہداء پاکستان کو خراج عقیدت پیش کیا۔


فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی سینئر صحافی ممتاز احمد خان کو قائد اعظم بیج لگا رہے ہیں۔ روزنامہ پاکستان




Honoured - The Nation
LAHORE (PR)-President Pakistan Freelance Journalists Association, Iqbal Yousufi conducted the traditional Independence Day celebrations by pinning Quaid-i-Azam badge on Pakistan Movement veteran, former Senator and a senior journalist Mumtaz Ahmed Khan in respect of his meritorious service rendered to the nation as a close associate of the late Quaid-i-Azam.
On this auspicious occasion Dr. Masoom Abidi, Allama Anwar Zahoori, Prof Mazhar Ali Adeeb, Imtiaz Rashid Qureshi and other freelance journalists were also present. After badge-pinning ceremony prayers were also offered for the stability, prosperity and solidarity of Pakistan.

فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن جشن آزادی کا آغاز تحریک پاکستان کے کارکن و سینیئر صحافی کو قائد اعظم بیج لگا کر کرے گی۔ روزنامہ پاکستان

آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (پی ایف جے اے) جشن آزادی کا آغاز تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے سینیئر صحافی کو قائد اعظم بیج لگا کر کرے گی۔ اس سلسلے میں ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس کے سربراہ معروف صحافی و دانشور ڈاکٹر معصوم عابدی ہیں۔

Quaid-i-Azam Badge for Journalist

FREELANCE Journalists Association will give Quaid-i-Azam Badge to a senior journalist who participated in the Pakistan Movement. A committee has been formed in this regard to decide on the journalist who should get the badge. Dr. Masoom Abidi is heading the committee. -PR

PFJA condemns action against journalist

NOV. 3: Pakistan Freelance Journalists Association has strongly condemned the illegal punishment meted out to a Journalist Mr. Mehmood to harass him. The president of the association Mr. Iqbal Yousufi has described this act of the political agent criminal. of South Waziristan as criminal.

He described the conduct of the political agent as collusive in respect to the ex-minister and notorious smuggler allegedly involved in heroin case. Mr. Yousufi has also sent telegram to the President & Prime Minister in which he has requested them to take notice of the serious criminal conduct of the political agent and has sought his dismissal & immediate release of patriotic & dutiful Journalist.

فری لانس صحافیوں کی بطور ممبر اینٹی کرپشن نامزدگی





 

لاہور (پ ر) پنجاب کے مختلف ڈویژنوں میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اینٹی کرپشن غلام عباس نے فری لانس صحافیوں کو اینٹی کرپشن کمیٹی کا ممبر نامزد کیا ہے۔ ان صحافیوں میں خالد پرویز ملک نعیم قریشی ، مظہر علی ادیب، نوید بخاری محمد افسر خان بلوچ کوکب خان ظفر اور کمال رضوی شامل ہیں۔ ان کی نامزدگی لاہور، ملتان، راولپنڈی فیصل آباد اور گوجرانوالہ ڈویژنوں کے لئے کی گئی ہے.

Journalists named as members Anti-corruption body

 

ADVISOR to CM for Anti Corruption has nominated Naeem Qureshi, Khalid Pervaiz Malik (Sheikhupura), Mazhar Ali Adeeb (Lahore), Kamal Rizvi (Rawalpindi), Afsar Khan (Multan) and Kokab Khan Zaar (Lahore), all freelance journalists as members of Anti-corruption Committee.The Freelance Journalists Association has hailed the decision and hoped that the nominated journalists will work day and night against corruption. -PR

ارکان اسمبلی کیلئے گریجوایشن کی شرط ایک انقلابی فیصلہ ہے: اقبال یوسفی

 





لاہور (پ ر) پاکستان فری لانس جب ٹلٹس ایسوسی ایشن نے ارکان اسمبلی کیلئے گریجوایشن کی شرط مقرر کئے جانے کو ہر اعتبار سے ایک انقلابی فیصلہ قرار دیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی نے اس تاریخی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا۔

کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کے نو منتخب عہدیداروں کو فری لانس جر نلسٹس ایسوسی ایشن کی مبارکباد

کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کے نو منتخب عہدیداروں کو فری لانس جر نلسٹس ایسوسی ایشن کی مبارکباد
لاہور (پ ر) آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس نلسٹس ایسوسی ایشن (پی ایف جے اے) نے کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹر ز (سی پی این ای) کے نومنتخب صدر میر شکیل الرحمن اور دیگر تمام عہدے داروں کو مبارکباد دی ہے۔

کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کے نو منتخب عہدیداروں کو فری لانس جر نلسٹس ایسوسی ایشن کی مبارکباد




لاہور (پ ر ) آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جر نلسٹس ایسوسی ایشن (پی ایف جے اے) نے کو نسل آف پاکستان نیوز پیپر زاید میٹر ز (سی پی این ای) کے نو منتخب صدر میر شکیل الرحمن اور دیگر تمام عہد یداروں کو مبارکباد دی ہے ۔ (سی پی این ای) کے عہدیداروں کے نام ایک پیغام میں ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی نے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ اپنے اراکین کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے مقادات کو بھی پیش نظر ر کھیں۔

صحافیوں پر تشدد، ذمہ دار افسران کیخلاف کارروائی کی جائے، اقبال یوسفی

 

صحافیوں  پر تشدد  بدانتظامی  کی  بدترین مثال  ہے، جو قابل  مذمت ہے

(پ ر) آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوی ایشن نے لاہور میں صحافیوں پر پولیس تشدد کے شرمناک واقع کی شدید خدمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی نے پی ایف ہے اے کے ایک پریس ریلیز میں موجودہ حکومت کے دور میں محنوب پر پولیس تشدد کا افسوسناک واقعہ بد انتظامی کی بدترین مثل ہے جس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔۔ پی ایف جے اے کے صدر اقبال یوسفی نے گورنر پنجاب کور کمانڈر اور آئی جی پولیس سے واقعہ کی تحقیقات کرانے اور ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

1999 میں 23 ممالک میں 50 صحافی ہلاک ہوئے جے ایس ایس کی رپورٹ

 

  
راولپنڈی (پ ر) آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کو جرنلٹس سیفٹی سروس (جے ایس ایس اور انٹر نیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے 23ممالک میں صحافیوں کو قتل کیا گیا جن میں کولمبیا سر فہرست ہے جہاں ۱۰ صحافی قتل ہوئے دوسرے نمبر میکیسکو رہا جہاں 4 صحافیوں کو قتل کیا گیا

سینئر صحافی عثمان یوسف سے فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کا اظہار تعزیت





لاہور (پ ر) سینئر صحافی اور مقامی اخبار کے چیف نیوز ایڈیٹر عثمان یوسف کی اہلیہ کے انتقال پر آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے گہرے افسوس و دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر، عہدیداروں اور اراکین نے اس حادثہ پر عثمان یوسف سے دلی اظہار تعزیت کی اور دعا کی کہ باری تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔


PFJA condoles with journalist

 



THE Pakistan Freelance Journalists Association (PFJA) president Iqbal Yousafi, office-bearers and members have condoled with News Editor of Daily Jang Usman Yousaf on his wife's death. They prayed Allah might rest the departed soul in eternal peace.-PR


Lashari's appointment as info secy hailed

LAHORE: The Pakistan Freelance Journalists Association (PFJA) Wednesday hailed the posting of Kamran Lashari as the Punjab information secretary. In a press release, the Association said Lashari always took interest in journalists' problems. PFJA President Iqbal Yousafi said Lashari was an active and effective officer.

کو لمبو میں سارک ممالک کی صحافی تنظیموں کے نمائندوں کا اجلاس، سری لنکا کی صدر نے صدارت کی


 سارک ممالک کی صحافی تنظیموں کا خصوصی اجلاس سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ہوا ۔ میزبان تنظیم سری لنکا یونین آف جرنلسٹس تھی۔ تقریب کا افتتاح سری لنکا کی صدر نے کیا جبکہ دوسرے اجلاس کا افتتاح سری لنکا کے وزیر اطلاعات نے کیا

اجلاس میں بھارت ، سری لنکا، پاکستان،  بنگلہ دیش سمیت علاقے کے تمام ممالک کی تنظیموں کے 21 نمائندوں نے شرکت کی۔ نمائندوں نے اختلافات " علاقے میں انسانی حقوق اور پریس کی آزادی پر اپنے اپنے ممالک کی رپورٹیں دیں ۔ نیپال اور پاکستان کے نمائندوں نے بھارت کی جانب سے بعض امور میں مداخلت کا الزام لگایا۔ پاکستانی مندوب اور پی ایف جے اے کے صدر اقبال یوسفی نے اپنی تقریر میں بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ پاکستانی صحافیوں کو ویزا دینے کے بعد اپنے ملک میں ہراساں کرتا ہے اور ان کے لئے انتظامیہ اور ایجنسیاں طرح طرح کی مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ انہوں نے گذشتہ سال پاکستانی ماہوار رسالے کے ایڈیٹر محمد اظہر مسعود کی بھارت میں گرفتار کر لینے اور ان کو تشدد کا نشانہ بنانے کے افسوسناک واقعہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ صحافی ابھی تک لاپتہ ہے۔ مسٹر یو سفی نے کہا جبکہ پاکستان میں بھارت سے آئے ہوئے کسی بھی صحافی کو تشدد کا نشانہ بنانا تو درکنار اس کو کسی نے پو چھا تک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی صحافی بھارتی سفارتخانے کو مشکوک دکھائی دیتا ہے تو ان کو ویزا ہی جاری نہ کیا جائے۔ اس طرح ویزا جاری کر کے شکار کی طرح جال میں پھنسانا بدترین سفارتی غنڈہ گردی ہے۔ اقبال یوسفی کے اس احتجاج پے اجلاس میں شریک بھارت کے چھ نمائندوں نے اس مسلے پر اپنی حکومت سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ مسٹر اقبال یو سفی کے اس مطالبے کی سارک ممالک کے تمام نمائندوں نے بھرپور حمایت کی۔ سارک ممالک کی صحافی تنظیموں کے نمائندوں کا اجلاس کولمبو میں پانچ دن جاری رہا۔ اجلاس میں صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنمٹس کے جنرل سیکرٹری مسٹر ایڈن وائٹ ، سنگاپور کی تنظیم اور ایف ای ایس کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران انسانی حقوق ، علاقائی مسائل اور صحافت پر مقامی حالات کے اثرات پر سری لنکا کے معروف دانشوروں نے خصوصی لیکچرز بھی دیئے۔





Z. A. Suleri Awarded Quaid-i-Azam Badge

Pakistan Freelance Journalists Association (PFJA) has decided to award Z. A. Suleri, venerable journalist and member of Pakistan Movement, with
Quaid-i-Azam Badge.
Pakistan Freelance Journalists Association (PFJA) started its
Independence Day celebrations by pinning Quaid-i-Azam Badge on  Z. A. Suleri,
senior editor of The News.
Pakistan Freelance Journalists Association (PFJA) President Iqbal
Yousufi, along with Ibrahim Tahir, Naeem Qureshi, Mazhar Ali Adeeb, Kaukab
Khan, Khalil Qureshi and Rehman Zulfi, paid rich tributes to Z. A. Suleri for
his contribution in Pakistan Movement. Speaking on the occasion, ZA Sureli
revealed when they brought out a procession in London in favour of
Pakistan, the English people, observing their enthusiasm, said they would
succeed one day in establishing their own homeland. He advised the youth
especially the journalists to work for the solidarity of the country
following the foot steps of Quaid-i-Azam.

PFJA urges SC to take suo moto notice of Lal Masjid, Karachi killings, AQ Khan detention and Bugti case

Lahore – The Pakistan Freelance Journalists Association (PFJA) has urged the Supreme Court of Pakistan to take suo moto action over the Lal Masjid incident, Karachi killings, the detention of Dr. A.Q. Khan, and the killing of Akbar Bugti.

Addressing a function held to celebrate the reinstatement of the Chief Justice of Pakistan, PFJA President Iqbal Yousafi said the solidarity and integrity of the country were at stake. He lauded the media’s role during the judicial crisis, noting that it faced immense pressure yet played a commendable and historic role.


 پی ایف جے اے کا سپریم کورٹ سے اہم قومی معاملات پر ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ

لاہور – پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (پی ایف جے اے) نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لال مسجد واقعہ، کراچی ہلاکتوں، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نظربندی اور اکبر بگٹی کے قتل پر ازخود نوٹس لے۔

چیف جسٹس آف پاکستان کی بحالی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  پی ایف جے اے کے صدر اقبال یوسفی نے کہا کہ ملک کی سالمیت اور یکجہتی خطرے میں ہے۔ انہوں نے عدالتی بحران کے دوران میڈیا کے کردار کو سراہا اور کہا کہ میڈیا نے دباؤ کے باوجود شاندار اور قابلِ فخر کردار ادا کیا۔


PFJA concerned about press freedom scenario (International Press Freedom Day


The Pakistan Freelance Journalists Association (PFJA) has voiced deep concern over the deteriorating press freedom situation in the country.

In a meeting chaired by PFJA President Iqbal Yousafi, the association strongly condemned the increasing incidents of attacks on press properties, terming them an attempt to harass journalists and silence the media. The meeting also deplored the growing violence against working journalists.

“At least 60 journalists were injured or subjected to violence last year while performing their duties, while another 18 were arrested in the line of duty,” Yousafi said.

The PFJA further demanded the immediate arrest of the perpetrators involved in the killing of six journalists who were shot dead during the past year.

Senior journalists Mazhar Ali Adeeb and Khalid Latif also attended the meeting.



پاکستان میں صحافیوں کی آزادی صحافت پر پی ایف جے اے کا اظہار تشویش

پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (پی ایف جے اے) نے ملک میں آزادی صحافت کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے اجلاس کی صدارت صدر پی ایف جے اے اقبال یوسفی نے کی، جس میں صحافتی اداروں پر بڑھتے ہوئے حملوں کی مذمت کی گئی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ یہ اقدامات صحافیوں کو ہراساں کرنے اور میڈیا کو دبانے کی کوشش ہیں۔ اجلاس نے صحافیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیوں پر بھی افسوس ظاہر کیا۔

اقبال یوسفی نے کہا کہ ’’گزشتہ سال کم از کم 60 صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران زخمی یا تشدد کا شکار ہوئے جبکہ مزید 18 صحافیوں کو گرفتار کیا گیا۔‘‘

پی ایف جے اے نے مزید مطالبہ کیا کہ ایک سال کے دوران قتل ہونے والے 6 صحافیوں کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

سینئر صحافی مظہر علی عابد اور خالد لطیف نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔