Pakistan Freelance Journalists Association - PFJA

Digital Archive

پی ایف جے اے (PFJA) کی سالانہ رپورٹ 2000ء: دنیا بھر میں 27 صحافی ہلاک، پاکستان میں صحافی کی دورانِ حراست موت پر شدید تشویش

پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (PFJA) کی جانب سے جاری کردہ ایک عالمی پریس ریلیز کے مطابق، سال 2000ء کے دوران دنیا بھر میں آزادیِ صحافت کا دفاع کرتے ہوئے 27 صحافیوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ اگرچہ یہ تعداد گذشتہ دہائی کے سالانہ اعدد و شمار کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے، لیکن رپورٹ میں اس بات پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس سال صحافیوں کے اغوا اور جبری گمشدگیوں کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو کہ عالمی میڈیا برادری کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔

پی ایف جے اے کی اس دستاویزی رپورٹ میں درج ذیل اہم عالمی حقائق سامنے لائے گئے:

  • سال 2000ء کے دوران دنیا کے 25 ممالک میں 73 صحافیوں کو قید و بند کی صعوبتوں کا نشانہ بنایا گیا۔

  • ایک حوصلہ افزا پہلو یہ رہا کہ امریکہ، کینیڈا، جاپان، فرانس اور مغربی یورپ کے کسی بھی ملک سے اس سال کسی صحافی کے قتل کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔

پاکستان میں آزادیِ صحافت اور دورانِ حراست موت کا المناک واقعہ

عالمی حالات کے علاوہ، پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (PFJA) نے ملکی سطح پر آزادیِ صحافت کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور صحافیوں کے تحفظ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

پریس ریلیز میں خاص طور پر لاہور سے شائع ہونے والے ایک نامور انگریزی اخبار سے وابستہ صحافی کی راولپنڈی پولیس کی حراست میں مبینہ ہلاکت (Custodial Death) کے ہولناک واقعے پر سخت احتجاج کیا گیا ہے۔ پی ایف جے اے نے اس واقعے کو صحافتی برادری پر ایک کاری ضرب قرار دیتے ہوئے مقتدرہ سے اس وحشیانہ کارروائی کی فوری تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

۱۹۹۴ء — انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) اور فریڈرک ایبرٹ اسٹفٹنگ (FES) ریجنل کانفرنس، کولمبو، سری لنکا

نومبر 1994ء میں، انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) اور فریڈرک ایبرٹ اسٹفٹنگ (FES) نے مشترکہ طور پر جنوبی ایشیا کی صحافتی یونینز کے لیے ایک معتبر علاقائی کانفرنس کا اہتمام کیا، جو کولمبو، سری لنکا میں منعقد ہوئی۔ یہ سنگِ میل اجتماع ایک انتہائی نازک سیاسی دور کے دوران سارک (SAARC) خطے میں سرحد پار یکجہتی اور میڈیا کی وکالت کے لیے ایک اہم باب ثابت ہوا۔

آفیشل رجسٹری لیجر: مندوبین کی حاضری اور سفری لاجسٹکس

پیرامیٹر (Parameter)دستاویزی نقل کا ریکارڈ (Documented Transcription Record)
سرکاری نمائندے / مندوبجناب اقبال یوسفی
تنظیمی حیثیتصدر، پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (PFJA)
کانفرنس کا مرکزی موضوع"South Asian Media in a Situation of Conflict" (تنازع کی صورتحال میں جنوبی ایشیائی میڈیا)
تقریب کا دورانیہ22 تا 25 نومبر 1994ء
مقامِ کانفرنسدی ہالیڈے ان، کولمبو، سری لنکا
دعوت نامے کی روانگیمورخہ: 13 نومبر 1994ء — فاؤنڈیشن کے پاکستان آفس (اسلام آباد) کے تعاون سے جاری کیا گیا
فلائٹ لاگ لاجسٹکس

20 نومبر: پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (PIA) کی پرواز PK 313 کے ذریعے لاہور سے روانگی۔


21 نومبر: کراچی میں ٹرانزٹ، جہاں سے ائیر لنکا کی پرواز UL 182 پر سوار ہوئے۔


22 نومبر: افتتاحی سیشنز کے لیے علی الصبح کولمبو آمد۔


27 نومبر: پرواز UL 181 کے ذریعے کولمبو سے واپسی اور اسی رات کراچی لینڈنگ۔


28 نومبر: کراچی سے آخری ملکی منزل کے لیے پرواز PK 314 پر روانگی۔

1994ء کے وفد کی تزویراتی اہمیت (Strategic Significance)

  • سارک ممالک کے مابین یکجہتی (Trans-SAARC Solidarity): اس اہم سربراہی اجلاس نے سارک خطے (بشمول بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، اور مالدیپ) سے تعلق رکھنے والے نامور صحافتی یونین رہنماؤں اور آزاد میڈیا مندوبین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ اس اشتراک نے نیٹ ورکنگ کے اہم ذرائع اور آزادیِ صحافت کے چیلنجز اور انسانی حقوق کے تحفظ کو نشانہ بنانے والے اجتماعی وکالت کے فریم ورک کو جنم دیا۔

  • تنازعات کا جغرافیائی سیاسی تناظر (Geopolitical Context of Conflict): کانفرنس کا مرکزی تھیم، "میڈیا ان ا سچویشن آف کانفلکٹ"، ایک انتہائی نازک موڑ پر سامنے آیا۔ 1990ء کی دہائی کے اوائل میں، جنوبی ایشیا فعال طور پر پیچیدہ بین ریاستی تناؤ، اندرونی تنازعات اور تیزی سے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل و پرنٹ میڈیا کے منظر نامے سے نبردآزما تھا۔ اس مکالمے نے علاقائی یونینز کو سرحد پار کے آپریشنل تجربات کا تبادلہ کرنے اور مربوط تحفظ کی حکمتِ عملی تیار کرنے کے قابل بنایا۔

  • پاکستانی فری لانس میڈیا کی رسائی (Access for Pakistani Freelance Media): کثیر الملی اور کارپوریٹ میڈیا ہاؤسز کے اثر و رسوخ کے برعکس، پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (PFJA) کے ذریعے براہِ راست سفارتی نمائندگی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر روایتی کارپوریٹ سنڈیکیٹس کے ساتھ ساتھ غیر روایتی اور آزاد لکھنے والوں کی آواز بھی پوری قوت کے ساتھ سنی جائے۔

  • بین الاقوامی ساکھ اور قبولیت (International Legitimacy): فریڈرک ایبرٹ اسٹفٹنگ (جو کہ مزدور تنظیموں کے حقوق پر توجہ مرکوز کرنے والی جرمنی کی ایک معروف فاؤنڈیشن ہے) کے ساتھ ساتھ آئی ایف جے (IFJ) کی مشترکہ سرپرستی نے علاقائی پریس موومنٹ کو عالمی سطح پر زبردست تقویت اور بین الاقوامی ساکھ فراہم کی، جس سے جنوبی ایشیائی میڈیا یونینز عالمی پریس سیفٹی آرکیٹیکچر کے ساتھ مضبوطی سے منسلک ہو گئیں۔