پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (PFJA) کی جانب سے جاری کردہ ایک عالمی پریس ریلیز کے مطابق، سال 2000ء کے دوران دنیا بھر میں آزادیِ صحافت کا دفاع کرتے ہوئے 27 صحافیوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ اگرچہ یہ تعداد گذشتہ دہائی کے سالانہ اعدد و شمار کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے، لیکن رپورٹ میں اس بات پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس سال صحافیوں کے اغوا اور جبری گمشدگیوں کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو کہ عالمی میڈیا برادری کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
پی ایف جے اے کی اس دستاویزی رپورٹ میں درج ذیل اہم عالمی حقائق سامنے لائے گئے:
سال 2000ء کے دوران دنیا کے 25 ممالک میں 73 صحافیوں کو قید و بند کی صعوبتوں کا نشانہ بنایا گیا۔
ایک حوصلہ افزا پہلو یہ رہا کہ امریکہ، کینیڈا، جاپان، فرانس اور مغربی یورپ کے کسی بھی ملک سے اس سال کسی صحافی کے قتل کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔
پاکستان میں آزادیِ صحافت اور دورانِ حراست موت کا المناک واقعہ
عالمی حالات کے علاوہ، پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (PFJA) نے ملکی سطح پر آزادیِ صحافت کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور صحافیوں کے تحفظ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
پریس ریلیز میں خاص طور پر لاہور سے شائع ہونے والے ایک نامور انگریزی اخبار سے وابستہ صحافی کی راولپنڈی پولیس کی حراست میں مبینہ ہلاکت (Custodial Death) کے ہولناک واقعے پر سخت احتجاج کیا گیا ہے۔ پی ایف جے اے نے اس واقعے کو صحافتی برادری پر ایک کاری ضرب قرار دیتے ہوئے مقتدرہ سے اس وحشیانہ کارروائی کی فوری تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔