Loading Calendar Time...

پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن

قائم شدہ ۱۹۷۹ • Established 1979
1979 Journal Founding
۱ / ۱۰

۱۹۷۹: پی ایف جے اے کا تاسیسی جلسہ

کراچی میں آزاد نامہ نگاروں کا پہلا اجتماع جس میں فری لانس صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے ایسوسی ایشن کے قیام کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔۔

Historical Archives newspaper
۲ / ۱۰

صحافتی دستاویزات و تاریخی آرکائیوز

پاکستان اور دنیا بھر کی صحافتی تاریخ کی نایاب دستاویزات، اخبارات اور مضامین کا محفوظ ترین آرکائیو جو تاریخ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔۔

Press Freedom ink quill
۳ / ۱۰

آزادیِ اظہار اور سنسرشپ کے خلاف محاذ

۸۰ کی دہائی میں پریس سنسرشپ کے دور میں سچی رپورٹنگ کی پاداش میں قید و بند کا سامنا کرنے والے جری صحافیوں کی یادداشتیں۔۔

Modern press machinery
۴ / ۱۰

کولمبو کانفرنس ۱۹۹۴: تاریخی وفد

سری لنکا میں منعقدہ بین الاقوامی صحافتی وفد میں پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی تاریخی شرکت اور علاقائی صحافت کا عالمی ایجنڈ۔۔

Press photography history
۵ / ۱۰

تصویری صحافت کی تاریخی جدوجہد

پاکستان کے گلی کوچوں سے تاریخ رقم کرتی نایاب تصاویر، جو آزاد فوٹو جرنلسٹوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر کیمرے میں قید کیں۔۔

Archives library room
۶ / ۱۰

قومی مجالس اور وفاقی لائبریری ریکارڈ

پاکستان میں چھپنے والے قدیم ترین وفاقی اور صوبائی مجلات کا مرکز، جو طلبا اور محققین کو تاریخِ صحافت کی رسائی دیتا ہے۔۔

Freelancer report writing
۷ / ۱۰

صوبائی نامہ نگاروں کے حقوق کا چارٹر

بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، سندھ اور پنجاب کے دور دراز علاقوں کے صحافیوں کو مرکزی دھارے میں متحرک کرنا۔۔

Historical microphone broadcast
۸ / ۱۰

میڈیا ایمرجنسی ۲۰۰۷ کا احتجاجی معرکہ

جب پریس کی تاریک ترین گھڑی میں پی ایف جے اے اور دیگر صحافتی تنظیمیں سڑکوں پر نکلیں اور بولنے اور لکھنے کی آزادی کا لوہا منوایا۔۔

Archive folder files
۹ / ۱۰

مولانا اسماعیل ذبیح کے علمی مکتوبات

ایسوسی ایشن کے تاسیسی اراکین اور ممتاز فکری پیشوا مولانا اسماعیل ذبیح کے تاریخی خطوط، فکری خدمات اور صحافتی جدوجہد کا ریکارڈ۔۔

Global press communications
۱۰ / ۱۰

عالمی آزادیِ صحافت یکجہتی محاذ

پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کا دنیا بھر کے آزاد نامہ نگاروں کے ساتھ اشتراک عمل جو دنیا کو ایک خاندان کی طرح جوڑتا ہے۔۔

معروف صحافی زیڈ اے سلہری کی وفات — سیاسی و صحافتی رہنماؤں کے تعزیتی پیغامات

PFJA Archives 23 April, 1999


 

معروف صحافی زیڈ اے سلہری کے انتقال پر سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ مختلف شخصیات نے مرحوم کے بلند درجات اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔

گورنر شاہد حامد نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ زیڈ اے سلہری نے صحافت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ہر ادارتی ذمہ داری میں انہوں نے اعلیٰ پیشہ ورانہ اوصاف کا مظاہرہ کیا اور ان کی خدمات طویل عرصے تک یاد رکھی جائیں گی۔

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ عرفان احمد ڈاھا نے کہا کہ مرحوم مسلم لیگ کے مخلص، محنتی اور باوقار کارکن تھے۔ ان کی وفات سے جماعت ایک ذہین، شریف اور باصلاحیت رکن سے محروم ہوگئی ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد اور نائب امیر لیاقت بلوچ نے مرحوم کی وفات کو قومی سانحہ قرار دیا۔ ان کے مطابق زیڈ اے سلہری نے تحریکِ پاکستان میں اہم کردار ادا کیا، آزادیٔ صحافت کے لیے سرگرم رہے اور ہمیشہ نظریۂ پاکستان اور دو قومی نظریے کا دفاع کیا۔

مرکزی جماعت اہلِ حدیث پاکستان کے سربراہ علامہ زبیر احمد ظہیر نے کہا کہ مرحوم نے پوری زندگی اسلام اور پاکستان کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی وفات سے صحافت کا ایک اہم باب بند ہوا، مگر ان کی تحریریں آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہیں گی۔

مجلسِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان کے اجلاس، جس کی صدارت اکرم علی خان نے کی، میں بھی مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اجلاس میں علی محتشم، بریگیڈیئر (ر) ظفر اقبال چوہدری، رانا صفدر جنگ، کرنل (ر) جمشید احمد خان ترین، ڈاکٹر اقبال سرہندی، چوہدری عبدالرشید سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

پاکستان فری لانْس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ اجلاس میں علامہ انور ظہوری، اقبال یوسفی، پروفیسر مظہر علی ادیب، کمال رضوی، نعیم قریشی، ابراہیم طاہر، تنویر زبیری اور شوکت اللہ نے مرحوم کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ایصالِ ثواب کی دعا کی۔

ایک الگ تعزیتی بیان میں گورنر شاہد حامد  نے دوبارہ مرحوم کی صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ممتاز صحافی تھے جنہوں نے صحافت میں ہمیشہ معیار اور دیانت کو ترجیح دی۔

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ عرفان احمد خان داھا اور چیئرمین ٹاسک فورس برائے ضروری اشیاء ایس۔اے۔ حمید نے بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا کہ مرحوم تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن تھے جن کی قومی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایس۔اے۔ ہاشمی نے اپنے بیان میں کہا کہ زیڈ اے سلہری نے اپنی پوری زندگی ملک و قوم کی خدمت میں گزاری۔ انہوں نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے صبر اور حوصلے کی دعا کی۔