Pakistan Freelance Journalists Association - PFJA

Digital Archive

تاریخی انٹرویو: فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی سے خصوصی ملاقات — روزنامہ صحافت (1999ء)


 

پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی سے ایک خصوصی ملاقات

روزنامہ صحافت — 5 اگست 1999ء

تعارف

جناب اقبال یوسفی پچھلے 20 برسوں سے فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (PFJA) کے پلیٹ فارم سے فی سبیل اللہ صحافیوں کے مسائل اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) نے انہیں اپنی رکنیت سے نوازا، اور اس طرح اقبال یوسفی پاکستان کے وہ واحد صحافی ہیں جنہیں انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی رکنیت کا اعزاز حاصل ہوا۔ روزنامہ ’صحافت‘ نے اپنے قارئین کو فری لانس جرنلزم (آزاد صحافت)، اس کے اغراض و مقاصد اور اہمیت سے روشناس کرانے کے لیے پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو کا اہتمام کیا، جو نذرِ قارئین ہے۔

صحافت: یوسفی صاحب! فری لانس جرنلزم سے کیا مراد ہے اور اب تک آپ نے اس پلیٹ فارم سے کیا خدمات سرانجام دی ہیں؟

اقبال یوسفی: فری لانس جرنلزم کا سیدھا سادھا مطلب 'آزاد صحافت' ہے۔ یعنی ایک ایسا صحافی جو کسی مخصوص اخبار یا میگزین کا باقاعدہ ملازم نہ ہو، بلکہ اپنی مرضی اور ضمیر کے مطابق سیاسی، ثقافتی، سماجی، معاشی، علاقائی اور بین الاقوامی موضوعات پر حقائق پر مبنی لکھے، اسے فری لانس جرنلسٹ کہتے ہیں۔ دنیا بھر اور بالخصوص یورپ میں ایسے آزاد صحافیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور معاشرے میں ان کا احترام اور اہمیت تسلیم شدہ ہے۔

پاکستان میں پہلے فری لانس جرنلزم کا کوئی خاص تصور موجود نہ تھا۔ اس تصور کو روشناس کرانے میں معروف صحافی (مرحوم) اے ٹی چوہدری صاحب کا بنیادی کردار ہے، جو پہلے نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبار 'دی پاکستان ٹائمز' اور بعد میں 'دی مسلم' کے چیف ایڈیٹر رہے۔ جب وہ اپنی ایڈیٹر شپ سے فارغ ہوئے، تو ہم نے مل کر 'فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن' کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ پاکستان میں ہمارے ارکان کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود ہم نے اس تنظیم کو اپنے محدود وسائل سے بڑھ کر متحرک کیا اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بھی فری لانس جرنلزم والے ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا۔

اللہ کا شکر ہے کہ اس وقت ہماری تنظیم پاکستان کی واحد صحافتی تنظیم ہے جو صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم (IFJ) کی رکن ہے اور ہمیں دنیا بھر سے ریفرنسز آتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ بھی ایک بڑا اعزاز ہے کہ اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام سال میں ایک بار دنیا بھر کے چیدہ چیدہ صحافیوں کی ایک 'واٹر کانگریس' منعقد ہوتی ہے، جس میں پاکستان سے صرف ہماری ایسوسی ایشن کا نمائندہ شرکت کرتا ہے۔ اس کانگریس میں دنیا بھر کے صحافی باہمی مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور ان کے حل کے لیے سفارشات مرتب کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہماری ایسوسی ایشن پاکستان میں کسی بھی ایسے صحافی کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتی ہے جو جرات مندانہ کارنامہ سرانجام دے یا معاشرتی برائیوں کو بے نقاب کرے، اور ہم انہیں بین الاقوامی سطح پر متعارف بھی کرواتے ہیں۔

ہماری ایسوسی ایشن ہر سال تحریکِ پاکستان میں حصہ لینے والے بزرگ صحافیوں کے اعزاز میں ایک باوقار تقریب کا انعقاد کرتی ہے اور ان میں سے کسی ایک منتخب صحافی کو قائدِ اعظم بیج (Medal) لگاتی ہے۔ اب تک فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن تحریکِ پاکستان میں تاریخی کردار ادا کرنے والے جن نامور صحافیوں کو یہ اعزاز دے چکی ہے، ان میں جناب ممتاز احمد خان، ڈاکٹر ضیاء الاسلام، زیڈ اے سلہری (مرحوم)، بی اے قریشی، اسماعیل ذبیح اور سید انوار ظہوری شامل ہیں۔

ہماری ایسوسی ایشن لفاظی کے بجائے ٹھوس اور تعمیری کاموں پر زیادہ توجہ دیتی ہے اور ہماری اس پالیسی کا سب سے زیادہ فائدہ ورکنگ جرنلسٹس کو پہنچتا ہے۔ ہم نے اپنے پلیٹ فارم سے اے ڈی مرزا سے لے کر رانا اقبال (مرحوم) تک، اپنے وسائل سے بڑھ کر صحافیوں کی مالی امداد کی۔ رانا اقبال (مرحوم) کی مثال سب کے سامنے ہے، جن کا شمار انتہائی دیانت دار اور فرض شناس صحافیوں میں ہوتا تھا۔ انہیں جب بلاوجہ ملازمت سے فارغ کیا گیا تو وہ اس صدمے سے شدید علیل ہو گئے۔ ہم ہسپتال میں ان کی عیادت کے لیے گئے اور ان کے مخدوش حالات کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر اپنے فنڈز سے 50 ہزار روپے کی امداد پہنچائی، اور بعد میں وفاتی و صوبائی حکومتوں پر زور ڈال کر مزید 75 ہزار روپے منظور کروائے۔ لیکن افسوس! ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود وہ علاج کے لیے بیرونِ ملک نہ جا سکے، کیونکہ ہمارے پاس ان کی اہلیہ کو ساتھ بھیجنے کے اخراجات کے وسائل نہیں تھے، اور اس مجبوری کے باعث ہم رانا اقبال کو موت کے منہ سے نہ بچا سکے۔

یہاں یہ امر انتہائی قابلِ ذکر اور افسوس ناک ہے کہ ہماری صحافتی برادری بے حسی کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ اگر خدانخواستہ کوئی صحافی بیمار پڑ جائے یا فوت ہو جائے، تو امداد کے لیے صحافی بھائی کام نہیں آتے۔ اس سے بڑا دکھ اور کیا ہوگا کہ اگر کوئی صحافی انتقال کر جائے تو جنازے میں صرف چند قریبی دوست ہی شریک ہوتے ہیں۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ جب روزنامہ 'جنگ' کے بانی میر خلیل الرحمن، اس کے بعد ہفت روزہ 'تکبیر' کے ایڈیٹر صلاح الدین (مرحوم)، اور اب حال ہی میں تحریکِ پاکستان کے مخلص کارکن زیڈ اے سلہری کا انتقال ہوا، تو ان کی قرآن خوانی، رسمِ قل یا چہلم میں شرکت کے لیے کوئی نہیں آیا، جس پر ہمیں تینوں بار شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم، یہاں میں نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی کا ذکر خیر ضرور کروں گا۔ وہ ایسے نیک کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ زیڈ اے سلہری مرحوم اگرچہ ان کا گروپ چھوڑ کر دوسرے اخباری گروپ میں چلے گئے تھے، لیکن ان کی وفات پر مجید نظامی صاحب سب سے آگے تھے؛ وہ سلہری صاحب کی یاد میں منعقدہ ہر تقریب میں شامل ہوئے اور اپنے اخبار میں بہترین کوریج بھی دی۔ یہی وجہ ہے کہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) نے آزادیٔ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر، پاکستان کی نظریاتی اساس اور ملک و قوم کے مفاد میں بے باک، جرات مندانہ اور فنی کردار ادا کرنے پر جناب مجید نظامی کے لیے ایک یادگار انٹرنیشنل ایوارڈ بھیجا، جس کے لیے ہم نے مجید نظامی صاحب کا انتخاب کیا تھا۔

تصویر کا حوالہ  پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی، آزادیٔ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی جانب سے ممتاز صحافتی خدمات کے اعتراف میں سینئر صحافی مجید نظامی کو ایوارڈ پیش کر رہے ہیں۔


صحافت: یوسفی صاحب! کیا آپ کو اپنی ایسوسی ایشن چلانے کے لیے حکومتِ پاکستان یا بیرونِ ملک سے کسی قسم کی مالی امداد ملتی ہے؟ اور کیا آپ کی ایسوسی ایشن نے بین الاقوامی سطح پر کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہے؟

اقبال یوسفی: آپ کا سوال بہت اہم ہے۔ میں یہاں بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہمیں آج تک کسی بھی پاکستانی حکومت یا غیر ملکی صحافتی تنظیم کی طرف سے ایک پائی کی بھی امداد نہیں ملی۔ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں، صرف اپنے ممبران کے چندے اور تعاون سے کرتے ہیں۔ مختلف تقریبات کے انعقاد کے لیے بھی ہم کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے بلکہ اپنی جیب سے اخراجات پورے کرتے ہیں۔

یہاں یہ کڑوا سچ بولنا بھی ضروری ہے کہ ہماری بہت سی مروجہ صحافتی تنظیمیں اس وقت صحافیوں کی فلاح و بہبود یا ان کے حقوق کی حقیقی جدوجہد نہیں کر رہیں۔ ان تنظیموں کے عہدے دار منتخب ہونے کے بعد مختلف ہتھکنڈوں سے اپنے لیے فنڈز اور پیسے اکٹھے کرتے ہیں اور ہضم کر جاتے ہیں، لیکن جو لوگ سچے دل سے صحافیوں کے لیے کام کر رہے ہیں، ان کی کہیں سے کوئی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔

آپ کے سوال کے دوسرے حصے کا جواب یہ ہے کہ جب سے ہماری ایسوسی ایشن بین الاقوامی تنظیم (IFJ) کی رکن بنی ہے، ہماری ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ ہم نے عالمی سطح پر مختلف ممالک کے صحافیوں کو درپیش مسائل اور ان کی اسیری (قید و بند) کے خلاف آواز اٹھائی اور کامیابی حاصل کی۔ ایک تازہ ترین واقعہ سناتا ہوں: آسٹریلیا کی صحافتی تنظیم نے ہمیں خط لکھا کہ افریقی ملک 'ٹونگا' میں چار صحافیوں کو پارلیمنٹ اور حکومت کے خلاف لکھنے کی پاداش میں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس پر میں نے فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی طرف سے ٹونگا کے وزیراعظم کو ایک خط لکھا۔ اس ڈپلومیٹک خط میں، میں نے پریس اور حکومت کے مابین خوشگوار تعلقات اور باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ان صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ آپ یقین جانیں کہ ٹونگا کے وزیراعظم نے ان چاروں صحافیوں کو رہا کرنے کے بعد باقاعدہ فیکس کے ذریعے مجھے اس کی اطلاع دی۔ اسی طرح، اس وقت ہم برازیل کے ایک صحافی کا ذاتی کیس ڈیل کر رہے ہیں اور برازیل کی حکومت کے ساتھ ہماری خط و کتابت اور بات چیت جاری ہے۔

آپ دنیا بھر میں دیکھ رہے ہیں کہ صحافتی تنظیمیں اپنے ارکان کے حقوق کے لیے کس قدر متحرک ہیں، جو ہمارے یہاں کے لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے۔ برطانیہ کی 'نیشنل یونین آف جرنلسٹس' کی مثال ہی لے لیں؛ انہوں نے اخبار سے نکالے جانے والے ایک ملازم کے حقوق کے لیے عدالت میں مقدمہ لڑا اور اس اکیلے کیس پر پاکستانی کرنسی کے حساب سے تقریباً 7 کروڑ روپے خرچ کر دیے، جس کا ہم یہاں تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ، ہماری پیرنٹ تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) کا اپنا ایک بہت بڑا سیکرٹریٹ ہے جہاں سینکڑوں افراد پر مشتمل عملہ کام کرتا ہے۔ ان کے متحرک ہونے اور فنڈز کی فراوانی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب الجزائر میں خانہ جنگی کے دوران صحافیوں کا قتلِ عام شروع ہوا، تو آئی ایف جے نے پہلے اقوامِ متحدہ کے ذریعے اپیلیں بھی کیں، لیکن جب یہ سلسلہ نہ رکا تو آئی ایف جے نے الجزائر سے ان تمام صحافیوں کو، جن کی جانوں کو شدید خطرہ تھا، وہاں سے نکالا اور اپنے خرچے پر بیلجیئم منتقل کر کے پناہ دلائی، جہاں emblems انہیں زندگی کی تمام تر سہولیات میسر ہیں۔

صحافت: اقبال یوسفی صاحب! کیا آپ کے خیال میں ہمارے ہاں اخبارات کو مکمل آزادی حاصل ہے؟ اور کیا حکومت اخبارات پر دباؤ ڈال کر انہیں اپنے حق میں استعمال کر سکتی ہے؟

اقبال یوسفی: آزادیٔ صحافت کا اصل مسئلہ محمد خان جونیجو کے دورِ حکومت سے پہلے کا تھا، جب لکھنے پر سخت پابندیاں تھیں اور مارشل لا حکومتیں اخبارات کا گلا گھونٹنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے انہیں اپنے حق میں لکھنے پر مجبور کرتی تھیں۔ لیکن محمد خان جونیجو کے دور اور جمہوریت کی بحالی کے بعد آزادیٔ صحافت کا اب وہ پرانا مسئلہ باقی نہیں رہا۔ اخبارات نے بحال جمہوریت کے بعد پریس کی آزادی کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دیا، جو کہ ایک بہترین روایت ہے اور بعد میں آنے والی حکومتوں کو بھی اس کا احترام کرنا پڑا۔ اگر آج کوئی اخبار میاں نواز شریف کے حق میں لکھتا ہے تو یہ اس کی اپنی پالیسی یا ذمہ داری ہے، حکومت کی طرف سے کسی اخبار پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ میرے خیال میں اب حکومتیں اخبارات کے خلاف 'اشتہارات کا کلہاڑا' بھی اس طرح استعمال نہیں کر پاتیں؛ اگر حکومت کسی اخبار کے اشتہارات بند بھی کر دے تو یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل پاتا اور بالآخر اشتہارات بحال کرنے پڑتے ہیں۔

اس موقع پر میں یہ بھی کہوں گا کہ اگر حکومت کسی بڑا اخبار پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے، تو پوری اخباری صنعت کے کارکنان حکومت کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں اور حکومت کو مجبوراً مذاکرات کر کے کارکنوں کے حق میں فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ جب کسی عام صحافی کو اخبار سے نکالا جاتا ہے یا صحافیوں کو اجتماعی طور پر معاشی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، تو اخباری مالکان ان کا حال تک نہیں پوچھتے۔ اگر یہی کارکنان اخباری مالکان کو اپنی طاقت فراہم نہ کریں، تو آج بڑے بڑے اخباروں کا ناطقہ بند ہو جائے۔

پرانے وقتوں میں اگر کوئی شخص اپنی خبر لگوانے کے لیے کسی رپورٹر یا نیوز ایڈیٹر کی دراز میں چند سو روپے رکھ آتا تھا، تو وہ لوگ جب تک اس شخص کو تلاش کر کے اس کے پیسے واپس نہیں کر دیتے تھے، انہیں چین نہیں آتا تھا۔ لیکن اب صحافت میں کرپشن کے فروغ کی بات کی جائے تو اس 'لفافہ جرنلزم' میں حکومتوں نے بھی بڑا کردار ادا کیا ہے۔ حکومتوں نے اپنے منظورِ نظر صحافیوں کو پلاٹ اور نقد رقم دے کر دوسری سیاسی جماعتوں کے لیے بھی اس قبیح روایت کے دروازے کھول دیے۔ آج جرنلزم میں جو برائیاں سرایت کر چکی ہیں، اس کی وجہ سے صحافت اور صحافی برادری معاشرے میں بے وقعت ہو کر رہ گئی ہے، یہاں تک کہ اب لکھنے کا وہ اثر بھی باقی نہیں رہا۔

یہاں میں نجم سیٹھی جیسے اخبار نویس کا ذکر ضرور کروں گا، جن کا کام صرف ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے اور وہ اسی ایجنڈے پر کام کرتے رہتے ہیں۔ معلوم نہیں ان کے کیا عزائم ہیں اور کون ان سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کا کام لے رہا ہے۔ جب انہیں حکومت نے گرفتار کیا، تو ہمیں کہا گیا کہ ان کی گرفتاری کے خلاف ملک گیر اور عالمی سطح پر احتجاج کیا جائے، لیکن میں نے صاف انکار کر دیا اور مطالبہ کرنے والوں سے کہا کہ مجھے یہ شخص محبِ وطن نظر نہیں آتا، اس کی سرگرمیاں مشکوک ہیں، اس لیے میں اس کی گرفتاری پر احتجاج نہیں کر سکتا۔ دوسری مثال 'دی فرنٹیئر پوسٹ' کے ایڈیٹر رحمت شاہ آفریدی کی ہے؛ ان کی گرفتاری پر بھی ہم نے احتجاج نہیں کیا، بلکہ حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ ان پر عائد الزامات کی ٹھوس بنیادوں پر شفاف تفتیش کی جائے اور ان کا ڈیکلریشن واپس لیا جائے۔

ہماری اخباری دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں چور، ڈاکو، اسمگلر، کالے دھن والے اور بڑے سرمایہ دار اپنے ناجائز مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اخبارات نکال رہے ہیں اور صحافت کی آڑ لے رہے ہیں۔ لیکن یہ تماشہ اب زیادہ دیر نہیں چلے گا، کیونکہ صحافی برادری اب اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کو پہچان چکی ہے۔

صحافت: یوسفی صاحب! ماضی کا کوئی ایسا اہم واقعہ بتائیں جو قارئین کی دلچسپی کا باعث ہو؟

اقبال یوسفی: میں یہاں یہ بتاؤں گا کہ ہمارے موجودہ وزیراعظم میاں نواز شریف میرے اس وقت کے دوست ہیں جب انہوں نے سیاست کے میدان میں قدم بھی نہیں رکھا تھا اور وہ 'اتفاق برادرز' کے ایم ڈی ہوا کرتے تھے۔ میرے اور موجودہ وزیراعلیٰ شہباز شریف صاحب کے کمرے بالکل ساتھ ساتھ ہوا کرتے تھے۔ میں جب بھی ان کے ہاں جاتا، دونوں بھائی انتہائی خلوص اور گرمجوشی سے ملتے تھے۔ لیکن جب سے انہوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا، اس کے بعد سے میری ان سے ملاقات نہیں ہوئی اور آج نواز شریف صاحب ملک کے وزیراعظم بن چکے ہیں۔

اس کے علاوہ، جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے وزیراعظم کی حیثیت سے یہ خواہش ظاہر کی کہ انہیں بھی کوئی صحافتی تنظیم اپنی رکنیت دے، تو میں نے 'خلیج ٹائمز' اور 'وال اسٹریٹ جرنل' میں ان کے شائع ہونے والے مضامین (Articles) کی بنیاد پر انہیں فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی اعزازی رکنیت پیش کی، جس پر وہ انتہائی مسرور ہوئیں۔ بعد کی حکومتوں نے ہم پر دباؤ بھی ڈالا کہ ہم بے نظیر بھٹو کی یہ ممبرشپ منسوخ کر دیں، لیکن ہم نے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور ممبرشپ برقرار رکھی۔

میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی سرپرستی کرے؛ ہمارے پاس صحافی برادری کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے بہترین پروجیکٹس ہیں، ہم ان کے لیے اسکول، رہائشی اسکیمیں اور ڈسکاؤنٹ اسکیمیں شروع کرنا چاہتے ہیں، لیکن وسائل نہ ہونے کے باعث مجبور ہیں۔ تاہم ہماری کوششیں جاری ہیں اور یہ جدوجہد صحافی برادری کے حقوق کے حصول تک ختم نہیں ہوگی۔

آخر میں، میں اپنے اس انٹرویو کے دوران روزنامہ 'صحافت (دوپہر)' کے چیف ایڈیٹر، مخلص کارکن صحافی اور اپنے چھوٹے بھائی خوشنود علی خان کا ذکرِ خیر ضرور کروں گا اور اپنے دیگر صحافی بھائیوں کو نصیحت کروں گا کہ وہ خوشنود علی خان کی محنت اور ان تھک جدوجہد سے سبق سیکھیں۔ انہوں نے ایک عام اخباری کارکن کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور اپنی خداداد صلاحیتوں اور محنت کے بلبوتے پر آج بڑے بڑے سرمایہ دار اخباری مالکان کے مقابلے میں ایک بڑے اخبار کے مالک بن کر ابھرے ہیں، جو تمام ورکنگ جرنلسٹس کے لیے باعثِ مسرت اور قابلِ فخر ہے۔ خوشنود علی خان نے ہمیشہ ہماری تنظیم (PFJA) کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور ہر مشکل مرحلے پر ہماری مدد کی۔ آج جب میں خوشنود علی خان کی صورت میں ایک اخباری کارکن کو اخبار کا مالک دیکھتا ہوں تو میرا دل خوشی سے باغباغ ہو جاتا ہے۔ میں دیگر کارکن صحافیوں کو بھی یہی نصیحت کروں گا کہ وہ محنت کو اپنا شعار بنائیں، اللہ تعالیٰ ان کی مدد ضرور فرمائے گا۔

ایک بار میں آسٹریلیا گیا، تو وہاں انٹرنیشنل کانفرنس کے موقع پر دیگر ممالک کے نامور اخبار نویسوں سے گفتگو کے دوران انہوں نے خوشنود علی خان کے کالموں کا خاص طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ممالک کے مقتدر اور ذمہ دار لوگ پاکستان کے چند گنے چنے کالم نگاروں میں سے خوشنود علی خان کے کالموں کا ترجمہ کروا کر ضرور پڑھتے ہیں۔ غیر ملکی صحافیوں کی زبان سے اپنے ایک ہم وطن اور اخباری کارکن کی یہ عالمی شہرت اور پذیرائی سن کر میرا سر فخر سے بلند ہو گیا۔