پہلے ہی نیپرا اور اوگرا جیسے ادارے عوام کی بہتری کی بجائے ان کے لئے عذاب اور قومی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں
ساری دنیا میں پرنٹ میڈیا کے لیے پریس کونسل کے نام سے ادارے بنائے گئے ہیں جن کے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد بھی ہو رہا ہے
لاہور (پ ر) آزاد صحافیوں کی تنظیم پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے حکومت کی طرف سے پریس اینڈ پبلیکیشنز ریگولیٹری اتھارٹی کے ذریعے پرنٹ میڈیا پر اپنے قوانین مسلط کرنے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس حکومتی اقدام کو جارحانہ کارروائی قرار دیا پی ایف جے اے کے صدر مسٹر اقبال یوسفی نے پیپرا قائم کرنے کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے "نیپرا" "اوگرا" جیسے ادارے بنائے جن کا مقصد عوام کی بہتری بتایا گیا لیکن یہ ادارے عوام کے لئے عذاب اور قومی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں یہی حشر پیپرا کا ہو گا۔ انہوں نے باور کرایا کہ پوری دنیا میں ترقی یافتہ ممالک نے پرنٹ میڈیا کے لئے "پریس کونسل" نام کے ادارے بنائے ہیں جن کے ضابطہ اخلاق کو حکومت اخباری صنعت کے مالکان اور صحافیوں نے تسلیم کر کے ان پر عملدرآمد کر رکھا ہے ان ممالک نے پریس کونسل میں جو ضابطہ اخلاق بنایا ہے وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق اور ہر فریق کے لئے قابل قبول ہے مسٹر یوسفی نے کہا کہ وزارت اطلاعات نے "پریس کونسل" کا مسودہ تیار کر لیا تھا پریس کونسل کے ضابطہ اخلاق کے لئے پی ایف جے اے نے کئی بڑے ممالک سے پریس کونسل کے مسودے کی مدد سے تیار کردہ تجاویز دی تھیں جن کی وزارت اطلاعات نے تعریف کی تھی لیکن مصلحت کی وجہ سے اس کے نفاذ کو موخر کر دیا گیا انہوں نے خبردار کیا کہ پیمرا کے ذریعے پرنٹ میڈیا کو کنٹرول کرنے کی ہر کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا اور اس سلسلے میں اے پی این ایس اور سی پی این ای کے موقف کی بھرپور حمایت کی جائے گی۔
