Pakistan Freelance Journalists Association - PFJA

Digital Archive

حکیم سعید اور صلاح الدین کے قاتلوں کو بچانے کے لئے خفیہ ہاتھ سرگرم ہو گئے، اقبال یوسفی

 

 حکیم سعید اور صلاح الدین کے اصل قاتلوں کو بچانے کیلئے خفیہ ہاتھ سرگرم ہوگئے ہیں: اقبال یوسفی 

روزنامہ جنگ (25 جنوری 1999ء)

 لاہور (پ ر) حکیم محمد سعید شہید اور محمد صلاح الدین شہید کے اصل قاتلوں کو بچانے کیلئے خفیہ ہاتھ سرگرم ہوگئے ہیں۔ یہ بات فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اقبال یوسفی نے اپنے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ محمد صلاح الدین کی شہادت کے المناک واقعہ کو ان کی بیٹی اور اس کے خاوند کے حالیہ تنازع کے پس منظر میں نہیں دیکھا جانا چاہئے اور نہ ہی حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قتل کے ذمہ دار سازشی عناصر ابہام پیدا کر کے اصل قاتلوں کو بچانے اور قتل کو بے گناہ افراد کے سر تھوپنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ 


 تاریخی اہمیت اور پس منظر

یہ تراشہ پاکستان کی صحافتی تاریخ کے ایک انتہائی نازک دور کی گواہی دیتا ہے۔ نامور طبیب و مصلح حکیم محمد سعید (مقدس نونہال اور ہمدرد لیبارٹریز کے بانی) کو 17 اکتوبر 1998ء کو کراچی میں شہید کیا گیا تھا، جبکہ اس سے قبل مایہ ناز بیباک صحافی اور ہفت روزہ 'تکبیر' کے بانی و ایڈیٹر محمد صلاح الدین کو 4 دسمبر 1994ء کو ان کے دفتر کے باہر قتل کر دیا گیا تھا۔

پاکستان فری لانس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (PFJA) کے صدر اقبال یوسفی کا یہ جرات مندانہ بیان اس وقت سامنے آیا جب مقتدرہ اور مخصوص عناصر کی جانب سے ان ہائی پروفائل قتل کے مقدمات کا رخ موڑنے، میڈیا برادری کو گمراہ کرنے اور اصل مجرموں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے گھریلو تنازعات کا لبادہ اوڑھانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ انہوں نے حکومت اور تحقیقاتی اداروں کو واضح طور پر متنبہ کیا کہ وہ اس "خفیہ ہاتھ" کی سازش کا حصہ بننے کے بجائے اصل قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔